ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سہیل آفریدی کے دہشتگردی کےخلاف جنگ کے متعلق خیالات سامنےآگئے

Suhail Afridi, City42, Policy on counter terrorism,
کیپشن: دسمبر 2024 مین پاکستان آرمی کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بنوں میں قبائلی عوام کے ساتھ دہشتگردوں کے ساتھ جاری جنگ کے دوران مشاورت کی ایک تقریب میں بنائی گئی فوٹو۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  سہیل آفریدی نے صوبہ خیبر پختونخوا میں  دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ کے متعلق اپنی رائے بتا دی۔ 

سہیل آفریدی کو پی ٹی آئی کے بانی چئیرمین نے خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نامزد کیا ہے۔ آج سہیل آفریدی نے حکومت کی پالیسی کے متبادل "اپنی پالیسی" کا جو خاکہ بیان کیا وہ وہی ہے جس پر وفاقی حکومت کے ادارے پہلے سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔

اپنے الفاظ میں سہیل آفریدی نے کہا، افغان پالیسی پر نظرثانی کرنہ ہوگی،  جہاں دہشتگردی ہے اس کا حل یہ ہے کہ اس علاقے کے مشران کو اعتماد میں لینہ ہوگا۔دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عوام اور ان کے نمائندوں سے پوچھنہ ہوگا۔

 وفاقی حکومت کے اداروں کے  نمائندے یہ کام بہت دفعہ پہلے کر چکے ہیں اور اب حال ہی میں ایک بار پھر یہ کیا گیا ہے۔

سہیل آفریدی نےوفاقی اداروں کی ہی پالیسی کو اپنے الفاظ میں دہرانے کے ساتھ یہ کہا کہ ،افغان پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

خیبر پختونخوا  اسمبلی میں ایک متنہزعہ عمل کے نتیجہ میں  خود کو وزیراعلیٰ ڈیکلئیر کئے جانے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے ایک ادنیٰ ورکر ، جس کا نہ بھائی، نہ باپ اور نہ ہی چچا سیاست میں ہے، اسے اس عہدے کے لیے نامزد کیا، میں پرچی سے وزیر اعلیٰ نہیں بنا، سب سے پہلے پاکستانی، پھر پختون اور قبائلی ہوں۔

Caption  سہیل آفریدی اپنے بقول وزیراعلیٰ بن جانے کے بعد ُیخیبر پختونخوا اسمبلی کے متنازعہ اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس تقریر کو "نئے وزیراعلیٰ" کی پہلی تقریر قرار دیا لیکن اپوزیشن نے اس ساری سرگرمی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پورا ملک جام کر دیں گے

سہیل آفریدی نے کہا میں اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے آج سے اقدامات شروع کردوں گا، میں احتجاجی سیاست کا چیمپئن ہوں، میرے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، نہ گاڑیاں ہیں، نہ پیسے ہیں، نہ بنگلے ہیں اور نہ ہی کرسی کی لالچ ہے۔جس دن میرے لیڈر نے کہا کرسی نہیں، اس طرح لات ماروں گا کہ کرسی ادھر پڑی ہوگی، بانی پی ٹی آئی کو فیملی اور جماعت کی مشاورت کے بغیر ادھر ادھر کیا تو پورا ملک جام کر دیں گے۔

سہیل آفریدی نے پہلی مرتبہ دہشتگردوں کے ساتھ جاری جنگ پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا، " افغان پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی"، لیکن دلچسپ  بات یہ ہے کہ "پالیسی پر نظر ثانی" کی بات کرنے کے بعد سہیل آفریدی نے جو باتیں کہیں ان پر وفاقی حکومت کے ادارے پہلے سے عمل کر رہے ہیں اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین خود بھی اس عمل میں شریک رہے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا، جہاں دہشتگردی ہے اس کا حل یہ ہے کہ اس علاقے کے مشران کو اعتماد میں لینا ہوگا، جہاں پر آپ کہہ رہے ہیں دہشتگردی ہے وہاں کے مقامی نمائندوں،پارلیمنٹیرین، عوام اور مشران کو اعتماد میں لیں، عوام اور ان کے نمائندوں سے پوچھنا ہوگا کہ کس طرح دہشتگردی کوختم کیا جائے، تب اس مسئلہ کا حل نکلے گا۔

Caption مقامی شہری اور سول سوسائٹی کے اراکین 29 اکتوبر 2022 کو صوبہ خیبر پختونخوا کے زیریں ضلع کے ایک قصبے چکدرہ میں ایک عظیم الشان "امن جرگہ" میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ جرگہ پاکستان کی دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں مقامی عوام کے ساتھ مشاورت کے سلسلہ  میں تسلسل کے ساتھ ہو رہی سرگرمیوں میں سے ایک سرگرمی تھا۔  (تصویر بشکریہ: آفتاب خان یوسفزئی/سوات اولسی پسون)