ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے خلع، نان نفقہ اور جہیز کے مالی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کا مقدمہ صرف علاقائی دائرہ اختیار کے اعتراض کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کا خاتون کے حق میں سنایا گیا فیصلہ بحال کردیا۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائلہ شگفتہ بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے گیارہ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ خلع کے مقدمے میں بیوی جہاں عام طور پر رہائش پذیر ہو، وہاں کی فیملی کورٹ کو مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔ بیوی کا عام رہائشی مقام اس کی مستقل رہائش یا مستقل پتے کا پابند نہیں ہوتا۔فیصلے کے مطابق علاقائی دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض کو موروثی دائرہ اختیار کی کمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کسی مقدمے کی سماعت سے فریق کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچتا تو محض علاقائی دائرہ اختیار کا اعتراض پوری عدالتی کارروائی ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے خاتون کی رہائش سے متعلق ایک بیان کو بنیاد بنا کر دیگر شواہد کو نظرانداز کیا۔ خاتون کے والد کا بیان بھی اس کے جہانیاں کی حدود میں رہائش کے مؤقف کی تائید کرتا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ صرف کسی ایک پتے کا ذکر خاتون کی عام رہائش ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔ عدالت کو مقدمے میں موجود تمام شواہد کا مجموعی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے۔
فیصلے میں مزید قرار دیا گیا کہ خلع کے ساتھ نان نفقہ اور جہیز کے دعوے بھی ایک ہی مقدمے میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔ اس لیے محض علاقائی دائرہ اختیار کے اعتراض کی بنیاد پر ایسے دعووں کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے عدت کے نان نفقے کی مد میں پندرہ ہزار روپے اور جہیز کی اشیا کی متبادل قیمت کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔تاہم اپیلٹ کورٹ نے اصل دعوؤں کے میرٹ کا جائزہ لیے بغیر صرف علاقائی دائرہ اختیار کی بنیاد پر فیملی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپیلٹ کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فیملی کورٹ کا خاتون کے حق میں سنایا گیا فیصلہ بحال کردیا۔عدالت نے اپنے گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں علاقائی دائرہ اختیار، عام رہائش اور خلع کے ساتھ مالی حقوق کے دعووں سے متعلق اہم قانونی اصول واضح کیے، جسے آئندہ ایسے مقدمات میں عدالتی نظیر کے طور پر پیش کیا جاسکے گا۔