سٹی42: طاقت حکمرانوں کو پاگل کرتی ہے لیکن پرائم منسٹر نیتن یاہو کی حکومت کمزوری کے سبب پاگل ہو گئی۔ اتحادی حکومت کے اہم عہدیدار کی طرف سے اشارہ آیا ہے کہ اگر ہائی کورٹ نے حکومت کی ناپسندیدہ اٹارنی جنرل سے جان چھڑانے کے متنازعہ طریقہ کار کو مسترد کر دیا تو حکومت ہائی کورٹ (اسرائیل کی سپریم کورٹ) کے حکم کو نہیں ماننے کی طرف جا سکتی ہے۔ عدالت کے حکم کو نہیں ماننے کی اسرائیل کے آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔
ٹائمز آف اسسرائیل کے جیریمی شیرون نے اپنی رپورٹ میں لکھا، "حکومت کا مطلب ہے کہ اگر ہائی کورٹ اے جی کو برطرف کرنے کے نئے طریقہ کار کے خلاف درخواستوں کو مسترد نہیں کرتی ہے تو وہ اس فیصلے کی پابندی نہیں کر سکتی ہے."
وزیر انصاف یاریو لیون اور ڈایا سپورا افئیرز کے وزیر امیچائی چکلی نے ہائی کورٹ آف جسٹس میں ایک نوٹس دائر کیا ہے جس میں اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کے حکومت کے نئے طریقہ کار کے خلاف درخواستوں کو مسترد کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جبکہ بظاہر یہ اشارہ ہے کہ اتحاد اس معاملے پر کسی فیصلے کو نظر انداز کر سکتا ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے رپورٹر نے لکھا، "یہ نوٹس انتہائی غیر معمولی ہے کیونکہ یہ درخواستوں کا باقاعدہ قانونی جواب نہیں ہے اور اسے حکومت کی طرف سے رکھے گئے وکیل نے نہیں لکھا ہے، بلکہ خود وزرا نے لکھا ہے۔"
نوٹس میں، لیون اور چکلی نے اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کے نئے طریقہ کار کے خلاف اہم قانونی دلائل کا دلیل سے جواب پیش نہیں کیا،۔ اٹارنی جنرل کی برطرفی کا یہ نیا متنازعہ پروسیجر حکومت نے جون میں اس وقت قائم کیا تھا جب وہ سابقہ نظام کے تحت اٹارنی جنرل خاتون گلی بہارو-میارہ کی برطرفی کو آگے بڑھانے میں ناکام رہی تھی۔
اس کے بجائے، دونوں وزراء نے بہارو-مائیارہ کو ان کے "ذاتی اور سیاسی عہدوں" کی وجہ سے حکومتی پالیسیوں کے خلاف "منظم" مخالفت ک کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب حکومت نے مارچ میں ان کے خلاف عدم اعتماد کا بیان جاری کیا تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
وہ واضح طور پر اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کے نئے عمل کے خلاف فیصلے کی پابندی نہ کرنے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں، اگر عدالت اسس طریقہ کار کے خلاف کوئی فیصلہ جاری کرے تو شاید حکومت اس کی تعمیل نہیں کرے گی۔
لیون اور چکلی لکھتے ہیں، "حکومت اب خود کو ایک ایسی حقیقت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جس میں اسے منظم اور غیر معمولی طور پر قانونی مشورے اور نمائندگی سے انکار کیا گیا ہے جس کی وہ مستحق ہے۔"
ان کا اصرار ہے کہ اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کے نئے نظام کے خلاف درخواستوں کو "بالکل مسترد کر دینا چاہیے"، یہ کہتے ہوئے کہ حکومت کے خلاف حکم " "عوام' پر ایک ایسا حکم نامہ جاری کرے گا جو حکومتی کام کو خاموش اور جان لیوا نقصان پہنچائے گا اور جو جمہوریت کے جوہر سے متصادم ہوگا۔"
یہ وزرا اپنے نوٹس میں لکھتے ہیں، ’’یہ سراسر غیر منصفانہ حکم ہوگا جسے پورا نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
لیون اور چکلی نے بہارو-مائیارا پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا ہے- "بریکنگ پوائنٹ تک، اور حقیقت میں اسے توڑ دیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "اب وہ توقع کرتی ہیں کہ عدالت اسے بھی توڑ دے گی، اس کے نتیجے میں ہونے والے شدید مضمرات کے ساتھ۔"
مارچ میں، حکومت نے 2000 میں قائم کیے گئے نظام کے تحت اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کے عمل کو حرکت میں لایا تھا۔ لیکن جون میں، اس نظام کے تحت نامزد کمیٹی کا پورا کورم پورا کرنے میں ناکامی کے بعد، اس نے پرانے پینل کی جگہ ایک نئی پانچ رکنی وزارتی کمیٹی قائم کرنے کے لیے کابینہ کی قرارداد منظور کی۔ بظاہر کابینہ کو اٹارنی جنرل کو برطرف کرنے کی کمیٹی ہی بدل دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں کیونکہ یہ پروسیجر آئین کے تحت قائم تھا اور اس مین ردوبل کرنے کے لئے محض وزیروں کا باہم متفق ہونا بے معنی ہے۔
اب وہ کمیٹی اٹارنی جنرل کلی بہارو میارہ کی برطرفی کی سماعت کرے گی جس کی آئینی حیثیت بطاہر مخدوش ہے اور جس کے ارکان اٹارنی جنرل کا کیس سننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ طویل عرصہ سے اٹارنی جنرل کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کا براہ راست یا بالواسطہ حصہ ہیں۔
اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کے ساتھ نیتن یاہو حکومت کا اختلاف کیا ہے
بظاہر ایسا ہے کہ اسرائیل کے پرائم منسٹر کئی سال سے کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جن سے جان چھڑانے میں آزاد عدلیہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت اپنے ایمبیشئیس سیاسی ایجنڈاکو بھی آگے بڑھانے میں عدلیہ کو رکاوٹ تصور کرتی ہے۔ آزاد عدالتی نظام کو اپنے تابع کرنے کے لئے پرائم منسٹر نیتن یاہو کی حکومت نے عدلیہ کے ججوں جے تقرر کے طریقہ کار کو بدلنے اور دوسری بعض تبدیلیوں کے ذریعہ عدلیہ کو مینیپولیٹ کرنے کی کوششیں کیں تو ان کی نہ صرف اپوزیشن سیاسی جماعتوں، عدلیہ کے ججوں اور اٹارنی جنرل نے مزاحمت کی بلکہ یہ آخرکار عوامی تحریک کل شکل اختیار کر گئی جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل کے اندر گھس کر دہشتگردی کرنے اور اور اسرائیل کو جنگ پر اکسانے کے وقت تک عروج پر تھی۔
خاتون اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا عدلیہ کی آزادیوں کے تحفظ سے لے کر داخلی انٹیلیجنس ایجنسی شیہہ بیخ (شن بیْت) کے کام مین سیاسی مداخلت تک کو روکنے تک بہت سے معاملات میں اسرائیل کے آئین اور قانون کے مطابق عمل کرنے کی کوشش میں حکومت کے نزدیک اس کی بڑی مخالف قرار پا گئیں اور پرائم منسٹر نیتن یاہو اور ان کے اتحادی ان کو برطرف کر کے ان کی جگہ کوئی نرمی کے ساتھ تعاون کرنے والا حکومت کا حامی اٹارنی جنرل اپوائنٹ کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔
انہیں اب تک کامیابی تو نہیں ہوئی لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ حکومت گلی بہارو میارا کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کو ترک نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیئے: اسرائیل کے وزیراعظم کی قطر گیٹ سکینڈل تحقیقات میں گواہی کا آغازہوگیا
یہ بھی پڑھیئے:اسرائیل کے وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو ہٹانے کے لئے کابینہ کا اجلاس کل بلا لیا
یہ بھی پڑھیئے : نیتن یاہو کے خلاف اسرائیل کی عدالتِ عظمیٰ کا اہم فیصلہ
یہ بھی پڑھیئے : نیتن یاہو سکیورٹی ایجنسی شیہ بیخ (Shen Bet) کے سربراہ کو برطرف نہیں کر سکتے، اٹارنی جنرل کا خط
اٹارنی جنرل کو معمول کے پروسیجر کے مطابق برطرف کرنے کے لئے جس کمیٹی کی منظوری ضروری تھی وہ کمیٹی حکومت کے کنٹرول میں نہیں، اس کیٹی کو بائی پاس کرنے کے لئے نیتن یاہو کی کابینہ نے بظاہر بالائے قانون اقدام کر کے نئی کمیٹی بنا ڈالی جو پرائم منسٹر کے ہاتھ کی گھڑی کی طرح ہان کے قابو میں ہے۔
آج بعد میں آنے والی اطلاع کے مطابق ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل کی برطرفی کے نئے پروسیجر پر عملدرآمد روکنے کی درخواستوں کے کیس میں پروسیجر کو روکنے (سٹیٹس کیو/ سٹے آرڈر) جاری کرنے سے احتراز کیا ہے۔
حکومت کے نگراں گروپوں نے جون کی کابینہ کی قرارداد کے خلاف فوری طور پر درخواستیں دائر کیں، یہ دلیل دی کہ اس نے پہلے سے ہی اصل پروسیجر شروع کرنے کے بعد برطرفی کے طریقہ کار کو غیر قانونی طور پر تبدیل کیا، اور عدالت سے عبوری احکامات کی درخواست کی کہ وہ حتمی فیصلے تک نئے عمل کے تمام پہلوؤں کو منجمد کر دیں۔