ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل کے وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو ہٹانے کے لئے کابینہ کا اجلاس کل بلا لیا

Justice Minister Yariv Levin , Benjamin Netanyahu, Attorney General Gali Baharav-Miara, Israeli Politics, Political crisis in Israel, Sara Netanyahu, judicial reforms in Israel, city42
کیپشن: اسرائیل کی واقعتاً خود مختار اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کی ایک حالیہ فوٹو؛ اٹارنی جنرل  نے ہر متنازعہ میں اپنا وزن قانون اور آئین کے پلڑے میں ڈالا اور وزیراعظم نیتن یاہو کی ھکومت کو من مانی کرنے سے روکا، اب نیتن یاہو اور ان کی حکومت کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جس کو کرنے سے پہلے وہ اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا کو عہدے سے برخواست کرنا ضروری سمجھ رہے ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: یروشلم میں وزیراعظم نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کی کابینہ انٹیلی جنس چیف رونن بار کو اپنی دانست میں ہٹا چکنے کے بعد اب اتوار کے روز   دوبارہ اجلاس کر کے اٹارنی جنرل خو بھی ہٹانے کے لئے "ووٹ آف نو کانفیڈنس" منظور کرے گی۔

وزیراعظم نیتن یاہو کے ذاتی عدم تحفظ سے جنم لینے والا "عدم اعتماد" سب سے پہلے سات اکتوبر کی جنگ کے آغاز کے وقت سے مہینوں تک وار کیبنٹ کے اہم ترین منسٹر یواو گیلنت کو وزارت دفاع سے ہٹانے کے لئے استعمال ہوا تھا، یہ نیتن یاہو نے  انٹیلی جنس ایجنسی شہ بیخ  Shen Bet کے ڈائریکٹر کو ہٹانے  کا متنازعہ حکم جاری کرنے کے لئے بھی رونن بار پر عدم اعتماد کا عذر پیش کیا اور اب نیتن یاہو کی کابینہ خاتون اٹارنی جنرل گلی بہارو کے خلاف "تحریک عدم اعتماد"  پر اتوار کو بحث کرے گی۔

یواو گیلنت، رونن بار اور گلی بہارو کے کاموں کی نوعیت مختلف اور ان کی شخصیات یکسر مختلف ہیں تاہم ان سب میں دو چیزیں کامن ہیں، ایک وہ وزیراعظم نیتن یاہو کی اصرائیل کے مفادات کے خلاف جانے والی حرکتوں پر ان سے بحث کرتے رہے اور ان کے عزائم کی راہ مین کہیں نہ کہیں رکاوٹ بنے، دوسرے یہ کہ نیتن یاہو ان کے ساتھ طویل عرصہ کام کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ان پر تو انہیں اعتماد نہیں۔ 

Caption تیرہ  فروری 2025 کو یروشلم میں صدر کی رہائش گاہ پر، اٹارنی جنرل گلی بہارو-میارہ سپریم کورٹ کے جسٹس اسحاق امیت کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہیں۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ اتوار کو اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کرے گی۔

حکومت کی جانب سے بہاراو مائارا کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے ارادے کی تصدیق کابینہ کی جانب سے شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے حق میں ووٹ دینے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی ہے۔

86 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جسے وزیر انصاف یاریو لیون نے مرتب کیا  اور کابینہ کے اجلاس سے قبل حکومتی وزراء کو تقسیم کیا گیا ہے جس میں بہارو-مائارا کی مبینہ "خلاف ورزیوں"  کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

اس نام نہاد چارج شیٹ کی ایک کاپی کان پبلک براڈکاسٹر نے آن لائن شائع کر دی ہے۔

الزامات کی اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل "حکومت کے مخالفین کے لمبے بازو  (ایکسٹینڈڈ آرم)ے طور پر کام کر رہی ہیں۔  یہ الزام لگانے کے لئے اٹارنی جنرل کے کسی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ساز باز کرنے کے شواہد کو غیر ضروری سمجھا گیا بلکہ اس پر انحصار کیا گیا کہ چونکہ ان کے اقدامات اور احکامات سے فائدہ اپویزشن کو ہوتا ہے اس لئے وہ اپوزیشن کا ایکسٹینڈڈ بازو ہیں۔  اور ووٹروں کی مرضی کو ناکام بنانے کے لیے کسی بھی طرح کا استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتیں۔" اس الزام کے ضمن مین یہ شواہد دینا غیر ضروری سمجھا گیا کہ اٹارنی جنرل کے قانونی اقدامات کی اصل وجہ دراصل یہ ہے کہ وہ نیتن یاہو اور  دائیں بازو کے اتحادیوں کے ووٹروں کو ناکام بنانا چاہتی ہیں۔

اس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بہارو-میارا نے اسرائیل میں سیاسی تقسیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "دو قانونی نظام بنائے ہیں - ایک حکومت کے مخالفین کے لیے اور دوسرا اس کے حامیوں کے لیے۔"

وزیر انصاف لیون نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان کی قیادت میں اٹارنی جنرل کا دفتر "ایک ظالم سیاسی اتھارٹی" بن گیا ہے۔

لیون نے 5 مارچ کو بہارو-مائارا کو اپنے عہدے سے ہٹانے کا عمل شروع کیا، ان پر اپنے دفتر کو سیاسی بنانے اور حکومت کی مرضی کو بار بار ناکام بنانے کا الزام لگایا۔

عدم اعتماد کی تحریک ان متعدد قانونی اقدامات  میں سے پہلی ہے جسے حکومت کو اٹارنی جنرل کو عہدے سے ہٹانے کے لیے لینا پڑے گا، اور یہ عمل کئی ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

تحریک کی منظوری کے بعد، حکومت کو اٹارنی جنرل کے تقرری، اور بڑی حد تک برطرف کرنے کے لیے ذمہ دار پانچ رکنی عوامی کمیٹی کا اجلاس کرنا ہو گا۔ 

چونکہ عوامی کمیٹی میں فی الحال دو  نشستیں ہی خالی پڑی ہیں، اس لیے اس کمیٹی کے اجلاس بلانے سے پہلے ان خالی نشستوں کو  پُر کرنا پڑےگا۔ 

عوامی کمیٹی جب اجلاس کرے گی تو وہ  اٹارنی جنرل کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دینے کے لیے سماعت کرے گی جس کے بعد وہ سفارش جاری کرے گی کہ انہیں برطرف کیا جانا چاہیے یا نہیں۔

اگرچہ حکومت کو سفارش پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اسے بہارو میرا کو بھی سننے کے لئے سماعت کرنا ہوگی۔

آخر کار، ہائی کورٹ آف جسٹس_  حتمی فیصلہ آنے سے پہلے اٹارنی جنرل کی برطرفی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرے گی۔

اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا ایک صاف کیرئیر کی مالک خاتون ہیں اور سخت مخالف ہونے کے باوجود نیتن یاہو اور ان کے اتحادی ان پر کسی کرپشن، اقربا پروری اور بے قاعدگی یا غیر قانونی اقدام کا الزام نہیں لائے بلکہ انہوں نے ان کے اقدامات کے سیاست پر خصوصاً حکومت کی مقبولیت پر اثرات کو لے کر انہیں ہٹانے کا کیس بنایا ہے۔

یہ خاتون اٹارنی جنرل نیتن یاہو حکومت کی عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہونے کے لئے آئین میں توڑ مروڑ کے عمل کی مخالف ہیں۔ وہ ججوں کے تقرر اور جوڈیشل ریویو کے معاملات کو سیاسی مفاد کی بنا پر چھیڑنے کی مخالف ہیں۔

 گلی بہارو کے اقدامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف کریمینل کرپشن کے کیس کے گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے متعلق نیوز چینل 12 پر ایک انویسٹیگیشن رپورٹ سامنے آنے پر وزیراعظم نیتن یاہو کی بیوی ساری کے خلاف پولیس تحقیقات کا حکم دے دیا۔

Caption سارہ نیتن یاہو کی اپنے شوہر وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ تصویر، اٹارنی جنرل نے میڈیا رپورٹس کو لے کر سارہ نیتن یاہو کے اپنے شوہر کی کرپشن کے مقدمہ مین گواہوں پر اثر انداز ہونے کے لئے انہیں دھمکیاں دینے کے معاملہ کی  پولیس تحقیقات کا بھی حکم دے ڈالا تھا۔ 

گلی بہارو میارا نے تازہ ترین یہ کیا کہ انٹیلی جنس چیف رونن بار کو برطرف کرنے کے منصوبہ کا نیتن یاہو کی طرف سے اعلان ہوتے ہی انہین نے  نیتن یاہو کو خط لکھ دیا اور اس مین قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم رونن بار کو برطرف نہیں کر سکتے، وزیراعظم نیتن یاہو نے بہرحال رونن بار کو برطرف کرنے کا متنازعہ حکم دے دیا لیکن ہوا وہی جو اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا پہلے ہی اپنے خط مین بتا چکی تھیں۔ ہاےئی کورٹ آف جسٹس نے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے رونن بار کو برطرف کرنے کے فیصلہ پر حکم امتناعی دے  کر اسے غیر مؤثر کر دیا اور اس اقدام کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے رسمی آغاز کے لئے  8 اپریل کی تاریخ مقرر کی۔

Caption اٹارنی جنرل گلی بہارو میارا سیاست تو نہیں کرتیں لیکن ان کے فیصلوں اور قانون کی بالادستی کے اصول پر سخت پوزیشن سے فائدہ بہرحال اسرائیل کی ڈیموکریٹس اور بائیں بازو کی پارٹیوں پر مشتمل اپوزیشن کو ہی ہو رہا ہے۔