ویب ڈیسک : سائنسدانوں نے ایک حیران کن کائناتی اسرار دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ ایک بلیک ہول 'اسٹار' ہے جس کا حجم ہمارے نظام شمسی جتنا ہے اور بہت روشن سرخ روشنی سے جگمگا رہا ہے۔
بین الاقوامی مارہین کی ٹیم نے یہ دریافت ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی ان تصاویر کی مدد سے کی جن میں پراسرار سرخ روشنی کو دیکھا گیا تھا۔
یہ بلیک ہول اسٹار برج قیطس میں موجود ہے جو کہ زمین سے اربوں نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
سائنسدانوں کے خیال میں اس کی تشکیل بگ بینگ کے 66 کروڑ سال بعد ہوئی تھی۔
یہ دیکھنے میں بہت بڑے ستارے جیسا ہے جو کسی بھی ستارے سے 100 ارب گنا زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔
اتنی توانائی ستاروں کی بجائے بلیک ہولز کی جانب سے خارج کیے جانے کا مشاہدہ ہوا ہے۔
تحقیقی ٹیم میں شامل میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے سائنسدان روہن نائیڈو نے بتایا کہ ہم نے ایک بالکل نئی قسم کا کائناتی مظہر دریافت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اتنی توانائی کے ساتھ جگمگا رہا ہے جسے بلیک ہولز سے منسلک کیا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی نشانیاں ایسی ہیں جو ستاروں کے ساتھ جوڑی جاتی ہیں۔

سائنسدانوں کی جانب سے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کو کائنات میں دور دراز واقع کہکشاؤں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور انہوں نے ایک کہکشاں مام زی 14 کو دریافت کرنے کے بعد ان کی توجہ کائنات مظاہر پر مرکوز ہوئی۔
جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں محققین نے نے اس سرخ روشنی والے مظہر کو مام بی ایچ 1 کا نام دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جس طرح اس کی روشنی مکمل سرخ ہے اور مخصوص ویو لینتھ میں غائب ہو جاتی ہے، یہ اتنی ڈرامائی ہے کہ ہم اس کا موازنہ کسی بھی دیگر کائناتی اجسام سے نہیں کرسکتے۔
کمپیوٹر سمولیشن سے ثابت ہوا کہ کسی بہت بڑے ستارے کی بجائے یہ مظہر ایک بلیک ہول ہے جو کسی ستارے کی طرح جگمگاتا ہے۔
اگر سائنسدان درست ثابت ہوئے تو اس سے عندیہ ملتا ہے کہ کائنات میں موجود متعدد پراسرار سرخ نقطے بھی بلیک ہول اسٹارز ہوں گے۔
روہن نائیڈو کا خیال ہے کہ اس طرح کے بلیک ہول اسٹار کہکشاؤں کے ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔