ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے

پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے

سٹی42:  پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان کے فارن آفس نے جنگ بندی معاہدے اور پاک بھارت تعلقات پر امریکی صدر کے بیان کو سراہا، علاقائی استحکام میں امریکی کردار کو سراہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، بھارت جنگ بندی کروانے کا اعلان سوشل پلیٹ فارم پر پوسٹ کرنے کے بعد ایک اور حیران کن اعلان یہ کیا ہے کہ وہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کے لئے ثالثی کرنا چاہتے ہیں۔  ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ امریکہ کی تجارت بڑھانے کی بھی بات کی۔ ٹرمپ نے اپنے اس بیان میں یہ انکشاف کیا کہ وہ جنگ بندی نہ کرواتے تو لاکھوں انسان مرنا  تھے۔ 

اتوار کو چھٹی کا دن ہونے کے باوجود  پاکستان نے پاک بھارت تعلقات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔
 دفتر خارجہ کے  ترجمان نے کہا،  جنگ بندی معاہدے میں امریکہ اور  پاکستان کے دوست ممالک کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے اور جموں و کشمیر تنازع کے حل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت قابل قدر ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے مشروط ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے لیے پرعزم ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
اس سے قبل آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کی پیشکش کی تھی۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کے لیے پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔
انہوں نے دونوں پڑوسی جوہری طاقت والے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے میں بھی دلچسپی ظاہر کی، حالیہ جنگ بندی کو تناؤ میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’’پاکستان اور ہندوستان دونوں کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ لڑائی روکنے کا وقت ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جاری تنازعہ بڑے پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان کا باعث بن سکتا تھا۔
گزشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں سہولت کاری میں ٹرمپ انتظامیہ کے کردار کا اعتراف کیا۔ ایک ٹویٹ میں، انہوں نے معاہدے کو "خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کی جانب ایک وسیع تر تحریک کا آغاز" قرار دیا۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس اور سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے ساتھ پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی "قیادت اور فعال کردار" اس نتیجے کو حاصل کرنے میں۔
شریف نے لکھا، "پاکستان اس نتیجے میں سہولت فراہم کرنے پر امریکہ کو سراہتا ہے، جسے ہم نے علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے۔"