ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  نریندر مودی کی فرانس میں غیر متوقع  سبکی،چھپانے کے لئے ڈھٹائی بھی کام نہ آئی

Narinder Modi , Emanuel Macron , City42, Artificial Intelligence Summit, city42
کیپشن: پیرس مین ہونے والی آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ مین پہلی صف میں بیٹھے نریندر مودی کو نظر انداز کر کے صدر میکروں نے ان کے دونوں اطراف اور پیچھے بیٹھے ہر مہمان سے ہاتھ ملایا۔ اس منظر یہ سکرین شوٹ سوشل میڈیا پر موجود ایک ویدیو سے لی گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42 :  احمد آباد کا قصاب گنگا نہا کر بھی گندا ہی رہا،  عالمی قیادت کی پروقار تقریب میں بھارت کی نمائندگی کے لئے پیرس گیا تو صدر میکروں نے گندے قصاب کو دور سے ہی پہچان لیا،  ہر ایک سے ہاتھ ملایا لیکن نریندری مودی کے ہاتھ کو چھونا گوارا نہیں کیا۔

پیرس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے متعلق اہم بین الاقوامی کانفرنس تھی جس مین بہت سے عالمی رہنما موجود تھے۔  تقریب کے میزبان فرانس کے صدر ایمانویل میکروں تقریب مین آئے تو رسم کے مطابق بہت سے  لوگوں سے مصافحہ کیا۔ انہوں نے پہلی صف میں موجود امریکہ کے نئے نائب صدر جے ڈی ونس سے گرم جوشی کے ساتھ ہاتھ ملایا، گلے بھی ملے، ونس کے ساتھ براجمان نریندر مودی کو نظر انداز کیا اور اس کی پیچھے والی قطار میں بیٹھے کئی لوگوں سے باری باری ہاتھ ملایا،۔

پھر نریدنر مودی کے پہلو میں بیٹھے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے  ہاتھ ملایا، ان کی خیریت دریافت کی۔ میکروں  یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون دیرلائن سے بھی  تپاک سے ملے۔ اپنی خاتون لیدر کو ہگ کیا، ان کے گال چومے اور خود کو خجالت کے ساتھ دیکھتے  نریندر مودی کی طرف ایک نظرِ غلط انداز تک نہیں ڈالی۔

یورپ کے اس اہم ترین  رہنمانے بھارتی وزیراعظم سے بات چیت کرنا تو دور مصافحہ کرنا بھی گوارا نہیں کیا، اس پر ستم یہ ہوا کہ صدر میکروں کے ساتھ نیوز کیمروں کے فریم میں مودی مسلسل نظر آتے رہے   تو نریندر مودی اپنی خجالت کم کرنے کے  یہ کیا کہ خود سے دور بیٹھے لوگوں کو ہاتھ ہلا ہلا کر اشارے سے سلام کرنے لگے۔ بہت پریشان باڈی لینگویج کے ساتھ مودی کی یہ تمام حرکتیں نیوز چینلز کے کیمروں نے نہ صرف ریکارڈ کیں بلکہ نشر بھی کیں۔

پاکستان کو تنہا کرنے کے لئے حتیٰ کہ کرکٹ جیسے شریفانہ کھیل میں بھی سیاست گھسیڑنے والے نریندر مودی کے سبب  اہم عالمی  کردار کا حامل  بھارت عالمی سطح پر تنہا رہ گیا ۔

نریندر مودی کو یورپ میں کن حوالوں ے ناپسند کیا جاتا ہے

فرانس اور یورپی یونین کو نریندر مودی سے سخت شکایت ہے کہ انہوں نے بھارت کی ایک  پہاڑی ریاست منی پور  میں کرسچین کمیونٹی کے خلاف فساد برپا کروائے اور یورپی یونین کے سخت احتجاج کے بعد  بھی مسیحیوں کا قتل عام بند کروانے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ 

نریندر مودی کا ابتدائی حوالہ احمد آباد گجرات مین مسلم کش فسادات کے دوران بے دردی کے ساتھ اپنے مسلمان ووٹرز کا قت لعام کروانا اور بعد مین ریاستی اقتدار کی طاقت کو قاتل جنونی فسادیوں کو قانون کے شکنجے سے بچانے مین شرم ناک ڈھٹائی کے ساتھ کردار ادا کرنا تھا۔ اس حوالے کو لوگ اب تک نہیں بھولے۔ 

فرانس کو نریندر مودی اس لئے بھی پسند نہیں کہ وہ کینیڈا میں خالصتان کے حامی سکھ شہری  ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ریاست کو ملوث تصور کرتا ہے۔ دراصل فرانس اور  بعض دوسرے ملکوں کی مشترکہ انتیلی جنس کمیونٹی نے ہی کینیڈا کو آغا کیا تھا کہ انڈیا کی حکومت نے کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کے لیدر کے ساتھ کیا کیا۔

ہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت نے بھی نجر کے قتل کے بعد امریکہ میں بھی سکھ کمیونٹی کے اہم رہنما کے قتل کی سازش کا انکشاف ہونے کے بعد سے نریندر مودی کو نمایاں دکھائی دینے والا کولڈ شولڈر دینا شروع کر دیا تھا۔  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس آنے کے بعد نریندر مودی وہاں گئے تو انہیں  ڈونلڈ ٹرمپ نے تو خوش آمدید کہا لیکن امریکہ میں مقیم بھارتی  کمیونٹی نے ان کے دورہ کے دوران مسلسل تنقید کی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس پہنچ کر پہلا کام یہ کیا ہے کہ انڈین  کمیونٹی کے ہزاروں لوگوں کو ملک سے باہر نکالنے کے لئے قانونی کارروائیاں  شروع کروا دین، بہت سے لوگوں کو قید کروا دیا، بہت سوں کو جبراِ ًامریکہ سے نکلوا دیا۔