ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹیسٹ کرکٹ کے پانچ کپتان، ٹیم کیلئے بدقسمت لیکن ذاتی پرفارمنس زبردست

ٹیسٹ کرکٹ کے پانچ کپتان، ٹیم کیلئے بدقسمت لیکن ذاتی پرفارمنس زبردست
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک: کرکٹ میں ریکارڈ روز بنتے  ہیں اور  پرانے ریکارڈز ٹوٹتے اور نئے قائم ہوتے رہتے ہیں، آج ہم ایک انوکھے ریکارڈ کی بات کرتے ہیں ، جس میں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ میچ ہارنے والے پانچ کپتانوں کا ذکر ہے ، اس فہرست میں کرکٹ سے وابستہ کئی بڑے نام شامل ہیں۔ان سارے  کھلاڑی ہیں  نے اپنی اپنی ٹیموں کی قسمت بدلی اور برسوں تک اپنے قومی ٹیموں کی کپتانی بڑے احسن طریقہ سے نبھائیْ۔
 عوام کا پسندیدہ کھیل کرکٹ ہے اور اس کے طویل فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے عظیم نام گزرے ہیں جنہوں نے اپنی قیادت میں ٹیم کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان سرفہرست کھلاڑیوں میں پانچ نامور کرکٹرز شامل ہیں ، جن کی کارکردگی اور کپتانی کے دور کی تفصیل اور انکی ذاتی پرفارمنس کا بھر پور جائزہ لیا جارہا ہے۔

1۔۔۔جنوبی افریقہ کے سابق عظیم اوپنر گریم اسمتھ  کو انتہائی کم عمری میں ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی تھی۔ انہوں نے 2003 سے 2014 کے درمیان 109 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی، جو اپنے آپ میں ایک عالمی ریکارڈ ہے۔تاہم طویل کپتانی کے کیریئر کا ایک پہلو یہ بھی رہا کہ اسمتھ سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ ہارنے والے کپتانوں کی فہرست میں سرفہرست ہیں۔ اپنے کیریئر میں کپتان کی حیثیت سے انہوں نے 29 ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کیا۔ اس دوران اسمتھ نے 57 اننگز میں 25.22 کی اوسط سے 1362 رنز بنائے، جن میں 8 نصف سنچریاں شامل تھیں۔

2۔۔۔نیوزی لینڈ کے سب سے کامیاب اور ذہین کپتانوں میں شمار ہونے والے اسٹیفن فلیمنگ (Stephen Fleming) اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ 1997 سے 2006 کے درمیان فلیمنگ نے نیوزی لینڈ کی کپتانی سنبھالی اور ٹیم کو ایک شناخت دی۔ ان کی کپتانی کے دور میں نیوزی لینڈ نے 27 ٹیسٹ میچ گنوائے۔ میدان پر حکمت عملی بنانے میں ماہر فلیمنگ نے ان میچوں کی 54 اننگز میں 29.42 کی اوسط سے 1589 رنز بنائے۔ اس دوران انہوں نے 117 رنز کی ایک سنچری اننگز کھیلی اور 11 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ 

3۔۔۔جدید دور کے عظیم بلے بازوں میں سے ایک جو روٹ (Joe Root) نے 2017 سے 2026 کے درمیان انگلینڈ کی ٹیسٹ کپتانی کی ذمہ داری سنبھالی۔ جب انگلینڈ کی ٹیم تبدیلی کے دور سے گزر رہی تھی، تب روٹ نے اپنی بلے بازی کے ذریعے ٹیم کا بڑا بوجھ سنبھالا۔ کپتانی کے دور میں روٹ نے مجموعی طور پر 27 ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کیا، جس کے باعث وہ فلیمنگ کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں۔متعددٹیسٹ میچوں میں شکست کھانے کے باوجود کپتان کی حیثیت سے روٹ کی انفرادی کارکردگی شاندار رہی۔ انہوں نے ان 27 مقابلوں کی 54 اننگز میں 34.48 کی اوسط سے 1793 رنز بنائے۔ ان کے ریکارڈ میں ناٹ آؤٹ 180 رنز کی ایک یادگار سنچری اور 15 نصف سنچریاں نکلیں۔

4۔۔۔کرکٹ کی تاریخ کے سب سے باصلاحیت بلے بازوں میں شمار ہونے والے ویسٹ انڈیز کے برائن لارا (Brian Lara) کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ 1998 سے 2006 کے درمیان لارا نے ویسٹ انڈیز کی کپتانی اس وقت سنبھالی جب کیریبین کرکٹ کا سنہرا دور اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا۔ لارا کی قیادت میں ویسٹ انڈیز نے 26 ٹیسٹ میچ گنوائے۔ تاہم، شکست والے میچوں میں بھی لارا کا بلا خوب چلا۔ ان 26 میچوں کی 52 اننگز میں انہوں نے 40.50 کی شاندار اوسط سے 2106 رنز بنائے۔ اس میں 202 رنز کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کے ساتھ 5 سنچریاں اور 11 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 

5۔۔۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں آسٹریلیائی کرکٹ کی تصویر بدلنے کا سہرا ایلن بارڈر (Allan Border) کے سر جاتا ہے۔ 1984 سے 1994 کے درمیان بارڈر نے آسٹریلیائی ٹیم کی قیادت سنبھالی۔ بارڈر نے جس ٹیم کی بنیاد رکھی، اسی بنیاد پر آگے چل کر آسٹریلیا نے عالمی کرکٹ پر طویل عرصے تک یکطرفہ حکمرانی کی۔ان کے کپتانی کے دور میں آسٹریلیا کو 22 ٹیسٹ میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کپتانی کے دوران دباؤ کے لمحات میں بارڈر نے 44 اننگز میں 27.14 کی اوسط سے 1140 رنز بنائے، جن میں ناٹ آؤٹ 152 رنز کی سنچری اننگز اور 4 نصف سنچریاں شامل تھیں۔