ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاس ہونے کیلئےزیادہ نمبردرکار؛ میٹرک، انٹر کیلئے نئی سخت پالیسی نافذ

اب 81 فیسد نمبر لینے والے اے پلس نہیں بی گریڈ میں شمار ہوں گے، جی پی اے کا نفاذ فی الھال روک دیاگیا

New Policy, GPA system, grading system, City42
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان میں میٹرک اور انٹرنیڈیٹ میں گریڈنگ کی نئی پالیسی اہم تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کر دی گئی ہے۔ آج نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا۔

میٹرک اور انٹر میں نئی گریڈنگ پالیسی سے جی پی اے کو خارج کر دیا گیا ہے اور اس نئی پالیسی کا دو ماہ بعد شروع ہونےوالےسال 2026 سے اطلاق ہونے  کا نوٹیفکیشن آج جاری کر دیا گیا ہے۔
ملک کی کئی جامعات فی الحال جی پی اے کی بنیاد پر یونیورسٹیزمیں داخلہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں،  نئی گریڈنگ پالیسی سے جی پی اے کو خارج کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ  آج منگل کے روز پاکستان بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے آفیشل کوآرڈینیشن فورم آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن) نے نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو مرحلہ وار آئندہ برس 2026 سے میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات کے لئے نافذ العمل ہو گی۔

اس  نئی گریڈنگ پالیسی میں "جی پی اے اور سی جی پی اے" کا سسٹم بھی شامل تھا لیکن آج پالیسی کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن کیا گیا تو اس میں  "جی پی اے اور سی جی پی اے" کا سسٹم  شامل نہیں ہیں۔ 

کراچی میں گزشتہ ماہ ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب آئی بی سی سی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات کا کہنا ہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی میں فی الوقت گریڈ پوائنٹ ایوریج کو شامل نہیں کیا گیا۔ اس رائے سے تعلیمی بورڈز بھی متفق تھے لہذا اب نئی گریڈنگ پالیسی سال 2026 سے جی پی اے کے بغیر نافذ ہوگی۔

واضح رہے کہ آئی بی سی سی کے تحت نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی کہا گیا ہے کہ جی پی اے کا اطلاق ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کی جانب سے نئی گریڈنگ پالیسی کے اجرا  تک روکا گیا ہے۔

نئی پالیسی میں U Grade انڈرگریڈ ہو گیا

 ایسےسٹوڈنٹ جو اب کسی پرچے میں 40 سے کم نمبر حاصل کریں گے انھیں "یو" گریڈ دیتے ہوئے ungraded کہا جائے گا جبکہ اس سے قبل "یو" گریڈ کو غیراطمینان بخش گریڈ کہا گیا تھا۔

 نئی پالیسی میں میٹرک اور انٹر میں تمام پرچوں کے پاس ہونے کے لئے درکار  مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کر دیئے گئے ہیں۔

نئی پالیسی کے مطابق اب کیمبرج یونیورسٹی کے طریقہ کار کے طرح تمام مضامین کو علیحدہ علیحدہ گریڈ کیا جائے گا، پرانی(آج تک رائج)  پالیسی میں 80 فیصد سے 100 فیصد تک مجموعی  مارکس حاصل کرنے پر اے ون گریڈ دیا جاتا ہرہاے۔

اب 81 سے 100 مارکس تک "اے پلس"  کی جگہ  4 مختلف گریڈز ہوں گے جس میں 96 سے 100 تک ایکسٹرا آرڈینری extra ordinary گریڈ یا اے ++ ، 91 سے 95 فیصد مارکس کے لئے ایکسیپشنل exceptional یا اے +گریڈ، 86 سے 90 فیصد مارکس لینے والوں کیلئے آؤٹسٹینڈنگ outstanding یا  اے گریڈ اور 81 سے 85 فیصد تک نمبر حاصل کرنےوالےسٹوڈنٹس کے لئے ایکسیلنٹ excellent یا بی ++ گریڈ ہوگا۔

اس سے تھوڑے نمبر لینے الے سٹوڈنٹس کیلئے   بی +، بی ، سی + ، سی ، ڈی اور یو گریڈ ہوں گے جنہیں بالترتیب فئیرFair, ویری گڈ Very Good، گڈ Good,   , اوسط سے  اوپر Aboce Average  اور اوسط  emerging, اور آخری درجہ کو ungraded کا نام دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2026 میں یہ پالیسی ملک بھر میں نویں اور گیارھویں جبکہ 2027 میں دسویں اور بارھویں جماعتوں پر قابل اطلاق ہوگی۔

 وفاقی تعلیمی بورڈ (فیڈرل بورڈ)  نے نیا گریڈنگ فارمولا نافذ کر دیا 

آج اسلام آباد کے وفاقی تعلیمی بورڈ نے بھی نیا گریڈنگسسٹم نافذ کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نیا گریڈنگ سسٹم 2026  میں ہونے والے تمام میٹرک  اور انٹر/  فرسٹ ایئر کے امتحانات میں نافذ ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق امتحانات میں  96 سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو A++ گریڈ ملے گا۔ 91 سے 95 فیصد نمبر  پر A+ گریڈ دیا جائےگا۔ 86  سے 90 فیصد نمبر لینے والوں کے لیے A گریڈ مقررکیا گیا ہے۔

وفاقی تعلیمی بورڈ کے مطابق  81 سے 85 فیصدکے لیے B++ اور 76 سے 80 فیصد کے لیے B+ گریڈ مقررکیا گیا ہے۔ 71 سے 75 فیصد نمبر پر B گریڈ قرار دیا گیا ہے۔ 61 سے 70 فیصد کے لیے C+ اور 51 سے 60 فیصد کے لیے C گریڈ ہوگا۔

اس کے علاوہ 40 سے 50 فیصد نمبر پر D گریڈ (Emerging) دیا جائےگا۔ 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ کو "Ungraded" قرار دیا جائےگا۔ ناکام طلبہ دوبارہ امتحان دینے کے اہل ہوں گے اگر وہ دیگر شرائط پوری کریں گے۔