سٹی 42 : پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد میں شامل تمام سٹوڈنٹس کو لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کردیا، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اس سال ایک لاکھ بچوں کو لیپ ٹاپ، سکالر شپ اور الیکٹرک بائیک دیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی ملاقات ہوئی۔ وفد میں بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء اور طالبات شامل تھے، جنہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات پر اظہارِ مسرت کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اہل پنجاب کی طرف سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے طلبہ کے لئے لیپ ٹاپ کا تحفہ پیش کیا۔ ساتھ ہی وزیراعلیٰ مریم نواز نے وفد میں شامل تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ دینے کا بھی اعلان کردیا۔
طلباء اور طالبات کی طرف سے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو بلوچ چادرپہنائی گئی۔ طلباء و طالبات کے وفد نے دورہ لاہوراور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے ملاقات کو یادگار لمحہ قرار دیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے بلوچ طلباء اور طالبات کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔
طلباء کے وفد نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے عوام دوست پراجیکٹس کو تالیاں بجا کرخراج تحسین پیش کیا۔
مریم نواز نے پنجاب میں محروم معیشت افراد کیلئے خصوصی ہیلپ لائن شروع کررہے ہیں تاکہ بیماری علاج وغیرہ کیلئے فوری مدد کی جاسکے۔ نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے وفد کی آمد خوشی کا باعث ہے۔ انہوں نے کہاکہ طلباء پاکستان کے علمبردار ہیں، مستقبل انہی کے ہاتھ میں ہے۔ میرا پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننا پاکستان کی تمام بیٹیوں کا اعزاز ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں دیگر صوبوں سے روزگار اور بہتر مواقع کی تلاش میں آتے ہیں، ہم نے سب کیلئے دل کے دروازے کھولے ہیں۔ ہسپتالوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سب صوبوں کے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ پنجاب کے چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام سے دوسرے صوبوں سے آنے والے بچے بھی مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ ہزار بیڈ کا نواز شریف کینسر ہسپتال اس لیے بنایا تاکہ پنجاب ہی نہیں پاکستان بھر کے لوگ مستفید ہوں۔کبھی سندھی، پنجابی یا کشمیری کا فرق نہیں رکھا، ہم سب پاکستانی ہیں۔ پنجاب اور دیگر صوبوں میں دیگر انفراسٹرکچر اور ترقی کا فرق واضح نظر آتا ہے۔ پنجاب کو زیادہ شیئر ملنے کا پروپیگنڈا غلط ہے، ہر صوبے کو شیئر مل رہا ہے۔ پنجاب کے پاس پیسے ہیں ہمارے پاس پیسے نہیں، طلباء کبھی اس بہکاوے میں نہ آئیں۔ پنجاب میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگایا جاتا ہے دوسرے صوبوں سے یہی فرق ہے۔ گڈگورننس سے بہتر کوئی سیاست نہیں ہوسکتی۔
مریم نواز نے کہا کہ سیاست پروٹوکول لینے کا نام نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور محنت کرنے کا کام ہے۔ پنجاب میں سفارش اور رشوت کا کلچر ختم کر دیا، ماضی میں یہاں پیسے لیکر کام ہوتے تھے۔ حلفاً کہہ سکتی ہوں کوئی بھی افسر سفارش پرنہیں لگایا۔ وی سی، سیکرٹری، ڈی سی، کمشنر کے پینل انٹرویو کے بعد سلیکشن کی جاتی ہے۔ ماضی میں ہراسانی،ریپ اور قتل کے واقعات تواتر سے ہورہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے آئی جی محنتی اور پروفیشنل آفیسر ہیں،اب کئی شہروں میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پنجاب میں کرائم کی شرح اب 100 سے 30 فی صد پر آ چکی ہے۔ جرم ہو تو24؛گھنٹے میں ملزم پکڑے جاتے ہیں کرائم کنٹرول کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اب سڑک پر کوئی ہیلمٹ پہنے بغیر نظر نہیں آتا، بغیر ہیلمٹ حادثے میں بہت نقصان ہوسکتا ہے ۔ شہباز شریف نے لاہور میں پہلا سیف سٹی بنایا،پورے پنجاب کو سیف سٹی بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرائم سین پر سب سے پہلے ڈرون پہنچ جاتا ہے، پینک بٹن دبانے پر پولیس فوراً پہنچ جاتی ہے، پنجاب میں اب مائیں بہنیں بیٹیاں محفوظ ہیں۔ کیمرے کے ذریعے اب مجرم ہی ٹریک نہیں بلکہ کوڑا کرکٹ کی نشاندہی ممکن ہے۔ 25ہزار گھر بنا دیئے پانچ سال میں پانچ لاکھ کا ہدف پورا کریں گے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وسائل عطا کیے تاکہ عوام کے مسائل حل کر سکیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج، ٹیسٹ اور ادویات مفت دی جاتی ہیں۔ ماضی میں کینسر کے مریضوں کی ضروری ادویات اور فری میڈیسن بند کر دی گئی، اب پانچ لاکھ مریضوں کو گھر بیٹھے میڈیسن مل رہی ہیں۔ معمولی امراض کے لئے ہسپتال آنے کی ضرورت نہیں،ہزار کلینک آن ویل اور فیلڈ ہسپتال گاؤں گاؤں جارہے ہیں۔ مراکز صحت کو یورپی معیار کے مطابق مریم نواز ہیلتھ کلینک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں چند کارڈیالوجی سنٹر تھے، سرگودھا، ساہیوال،مری میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ اور 16اضلاع میں کیتھ لیب بنا دیں۔ لاہور میں ہونے والی صفائی خود بخود نہیں ہورہی بلکہ سال بھر کی محنت کا صلہ ہے۔ فوربز نے بھی”ستھرا پنجاب“ کو سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام قرار دیا۔ ڈیڑھ لاکھ ورکر پر مشتمل ستھرا پنجاب کی فورس شہر شہر گاؤں گاؤں صفائی کررہے ہیں۔ پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل میں پورا پورا ہسپتال مکمل طور پر دھویا جاتا ہے۔روایتی جھاڑوں کی بجائے اب مشینوں سے صفائی کرائی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین بس کا آغاز چھوٹے شہروں سے کیا،20روپے میں سفر کی بہترین سہولت میسر ہے۔ لاہورکے مختلف مقامات پر وائی فائی مفت میسر ہے۔ سرکاری سکولوں میں درکار ضروری سہولیات فراہم کررہے ہیں، ہر تحصیل میں سنٹر آف ایکسی لینس بنارہے ہیں۔ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ لاہور میں قائم ارلی چائلڈ ہوڈ سنٹر جیسا ادارہ کہیں نہیں ہوگا۔ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت کا شکار طلبہ کے لئے اربوں روپے کا سکول میل پروگرام شروع کیا، 11لاکھ داخلے بڑھ گئے۔ بچوں کے لئے لائبریری آن ویل اور سکول آن ویل پراجیکٹ لارہے ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں 15لاکھ مزدورں کو راشن کارڈ دیئے، 50لاکھ مزدوروں کو راشن کارڈ دیں گے۔ 20ہزار کلومیٹر سڑکیں بنادیں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں میٹرو بس بن رہی ہے۔ جہاں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، واٹر بوٹلنگ پراجیکٹ اور واٹر فلٹریشن پلانٹ لارہے ہیں۔ تمام اضلاع میں سیوریج اور ڈرینج کے کام ہورہے، ایک سال میں مسئلہ نہیں رہے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب ایئر ایمبولینس سروس شروع کرنے والا پہلا صوبہ ہے۔سٹروک پیشنٹ کے لئے سپیشل پروگرام شروع کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو فالج کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ پاکستان کا سب سے بڑا ہونہار سکالرشپ پروگرام شروع کیا، 80ہزار بچوں کی فیسیں اب حکومت ادا کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت مضبوط ہوں لیکن سکالرشپ حاصل کرنے والے بچوں کی سٹوری سن کر رونا آجاتا ہے۔ اس سال ایک لاکھ بچوں کو لیپ ٹاپ، سکالر شپ اور الیکٹرک بائیک دیں گے۔
2016ء میں نواز شریف نے آئی ایم ایف کو الوداع کہہ دیا،2018میں کون لایا سب جانتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جن کی سیاست کا محور دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینا ہووہ اکانومی کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ مانیٹرنگ اور چیک نہ ہو تو کوئی کام نہیں کرتا، جب تک پوری کوشش نہ کی جائے پراجیکٹ برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر سڑک اور بجلی نہیں ہوگی تو لوگ انڈسٹری کیسے اور کیوں لگائیں گے؟۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں لون لیکر ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی، انفراسٹرکچر بنے گا تو ترقی آئے گی۔ قرض لیاپیسا اپنے اوپر لگایا یا عوام پر لگایا اسی سے فرق پڑتا ہے۔ انسان فیصلہ کرے کہ کام کرکے چھوڑنا ہے تو کام ہوجاتے ہیں۔ عوام کیلئے پانچ کھرب بھی ہوتو کم لگتے ہیں، عوام کی خدمت کے پراجیکٹ جاری ہیں مگر یہ سب پراجیکٹ کافی نہیں لگتے۔ پنجاب میں بلوچستان کے طلبہ کو ہونہاسکالر شپ اور لیپ ٹاپ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دانش سکولوں میں بلوچستان کے 260طلبہ پڑھ رہے ہیں جبکہ 1500پڑھ کر جاچکے ہیں۔ پنجاب کے پراجیکٹ میں بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کا حصہ الگ رکھ دیا۔ جھوٹے بہکاوے میں نہ آئیں، آپ کا پیسا آپ پر ہی لگنا چاہیے۔ کسی صوبے کو زیادہ پیسے نہیں ملتے، اپنی حکومت سے تہذیب اور تمیز کے ساتھ سوال ضرور پوچھیں۔ ہم پہلے پاکستانی ہیں، سندھی، بلوچی اور پنجابی بعد میں ہیں، دعاہے جو قدم اٹھے ملک قوم کے لئے اٹھے۔
مکران کی طالبہ نے اس موقع پر کہا کہ لاہوراچھا لگا، وزیراعلیٰ مریم نوازشریف سے ملکر خوشی ہوئی۔ طالبات نے شکوہ کیا کہ نواز شریف نے بلوچ طلبہ کو سکالر شپ دیئے بعد میں آنے والوں نے بند کر دیئے۔
ایک طالبعلم نے کہا کہ لاہور کی مہمان نوازی اچھی لگی، یقین نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ سے ملاقات بھی ہوسکتی ہے۔