سٹی42: آج لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے ایک حکم کو لے کر یہ بحث چھیڑ دی گئی کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس نے ٹریفک قانون کی دھجیاں اڑانے والے کم عمر ڈرائیوروں کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔
کل پنجاب کے وزیر تعلیم نے تصدیق کی تھی کہ ٹریفک قانون کی وائلیشن کرنے والا خواہ سٹوڈنٹ ہو یا کوئی اور اسے قانون کے مطابق گرفتار کرنا ہوا تو گرفتار کیا جائے گا، آج لوگ چیف جسٹس کے حکم کا حوالہ دے کر یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ اب پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرنے والے کم عمر ڈرائیوروں کی گرفتاری روک دی ہے۔
اص ضمن میں حقائق کی چھان بین کی گئی تو یہ سامنے آیا کہ چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم نے قانون کی منہاج کی عمومی وضاحت کی اور حکم دیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا اگر کم عمر ہو تو اسے پہلے صرف وارننگ دی جائے، دوسری بار قانون توڑنے والے کو قانون کے مطابق گرفتار کرنا ضروری ہو تو گرفتار کیا جائے۔
ٹریفک قوانین کی وائلیشن کرنے والے کم عمر افراد سمیت ہر وائلیٹر کو گرفتار کرنے کے متعلق متعلقہ حکام کی وارننگز کو بنیاد بنا کر ایک کیمپین چلائی گئی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم ک نے آج اپنے چیمبر میں پولیس کے سینئیر موسٹ آفیسر کو بلوایا اور ان سے اس معاملہ پر براہ راست آگہی حاصل کی۔ چیف جسٹس نے اپنے چیمبر میں آئی جی پنجاب سے گفتگو کے دوران ہدایت کی کہ ایک تو کم عمر افراد کو وائلیشن سے روکنے کے لئے آگاہی مہم چلائی جائے، دوسرے اگر کوئی کم عمر ڈرائیونگ کرتے ہوئے وائلیشن کا مرتکب ہوا ہو تو اسے پہلی مرتبہ وارننگ دی جائے، دوسری مرتبہ وائلیشن کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
جسٹس عالیہ نیلم نے واضح الفاظ میں حکم دیا کہ کم عمر ڈرائیورز سے متعلق پہلے آگاہی مہم چلائی جائے اور پہلے موٹر سائیکل اورکار چلانے والے کم عمر بچوں کو وارننگ دی جائے۔
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ عالیہ نیلم نے کم عمرڈرائیورز کی گرفتاریوں پر اظہار تشویش کیا اور یہ حکم دیا کہ وارننگ دینے سے پہلے کسی وائلیشن میں ملوث پائے گئے کم عمر فرد کو گرفتار کر کے ہتھکڑیاں نہ لگائی جائیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نےٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پرکم عمرافراد کوگرفتارکرنے سے روک دیا ہے اور یہ قرار دیا ہے کہ کم عمر ڈرائیورز کے لئے پہلے آگاہی مہم چلائی جائے اور پہلے کم عمرموٹر سائیکل اورکار چلانے والے بچوں کو وارننگ دی جائے۔ غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو آج میٹنگ کےلیے چیمبر میں بلایا تھا جس پر آئی جی پنجاب آج لاہور ہائیکورٹ آئے تھے۔