ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اراضی انتقالات کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کی مداخلت ہائیکورٹ میں چیلنج

اراضی انتقالات کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کی مداخلت ہائیکورٹ میں چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : اراضی انتقالات کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کی مداخلت کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا، عدالت نے شہری کے اراضی تنازع میں اینٹی کرپشن کی انکوائری کیخلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے محکمہ اینٹی کرپشن کو دو شہریوں کیخلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا ۔

جسٹس خالد ابن عزیز نے شیخوپور کے رہائشی نصیب گجر کی درخواست پر سماعت کی ، درخواستگزار کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے، عدالت نے محکمہ اینٹی کرپشن کو آئندہ سماعت سے قبل تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے ۔ درخواستگزارکی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ نےمئوقف اختیار کیا کہ درخواستگزار وں نے2013 میں فاروق آباد میں 1980سے چلے آ رہےمالکان سے اراضی خریدی اور رجسٹری، انتقال اور قبضے کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے ، 10برسوں بعد قبضہ مافیا کے اراکین شہزاد وغیرہ نے بھی درخواست گزاروں کی اراضی سے ملحقہ کچھ اراضی خریدی جس کے بعد درخواست گزاروں کی اراضی پر قبضہ کرنے کیلئے قبضہ مافیا کے اراکین نے ایک جعلی رجسٹری تیار کروائی تاہم درخواستگزاروں نے جعلی رجسٹری کا علم ہونےپراسےسول عدالت میں چیلنج کر دیا، میاں دائود ایڈووکیٹ نے نشاندہی کی کہ قبضہ مافیا نے مسلم لیگ نواز کےمقامی ایم این اے کی سفارش پر محکمہ اینٹی کرپشن میں درخواست دلوائی اور محکمہ اینٹی کرپشن نےانکوائری شروع کر دی، لاہورہائیکورٹ پہلے ہی محکمہ اینٹی کرپشن کا اراضی انتقالات کے تنازعات میں مداخلت کا اختیار کالعدم کر چکی ہےلہذادرخواستگزاروں کےانتقالات کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کی انکوائری کو ماورائے اختیار قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

Ansa Awais

Content Writer