ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

چناب کا سیلاب آج ملتان پہنچےگا،ہیڈتریموں بچ گیا

Chenab River, Multan City and Chenab, Chenab Flood, PDMa, Irfan Ali Kathia

سٹی42: دریائے چناب میں بھارت سے آنے والا تباہ کن سیلاب کل ملتان پہنچے گا۔ ملتان پہنچنے تک روای کے سیلاب کا پانی بھی چناب میں مل جائے گا۔

 پروونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نےکہا ہے کہ سیلاب کا خطرہ  ٹلا نہیں ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے کہاکہ چناب میں سیلاب کے پانی کا ریلا ہیڈ تریموں سے ملتان ہیڈ محمد والا کی طرف جارہا ہے۔  تریموں ہیڈ ورکس کو کوئی خطرہ نہیں۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایاکہ ہیڈ قادر آباد  کو بچانے کیلئے دو حفاظتی بندوں کو توڑنے کے ثمرات اب ہمیں نچلے علاقوں میں نظر آرہے ہیں۔ آج جھنگ میں بھی رواز برج کی گنجائش کم تھی اور وہاں آنے والا پانی زیادہ تھا، بریچ کرنے کے فیصلے سے یہاں بھی فائدہ ہوا۔

عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ چناب کا سیلاب کل ملتان پہنچے گا، چناب کے ساتھ ساتھ روای کا پانی بھی مل جائے گا۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نےبتایا، راوی میں  سیلاب کا ریلا جو دو دن پہلے شاہدرہ سے گزرا وہ ریلا اب ہیڈ سدھنائی پہنچ چکا ہے۔  ہیڈ سدھنائی گنجائش کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس ہیڈورکس کو بچانے کے لئے بھی اس سے پہلے واقع حفاظتی بند کو توڑنا پڑ سکتا ہے۔ 

عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مائی صفورہ بند کے مقام پر ہمیں آج رات شگاف ڈالنا پڑے گا، مائی صفورہ بند کے قریب علاقوں سے 20 سے 24 ہزار افراد کا انخلا کردیا گیا ہے۔

عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ ایک ہی وقت میں 3 دریاؤں میں سپر فلڈ کی صورتحال ہے، جو بھی سخت فیصلے تھے وہ ہوئے اب ثمرات نظر آرہے ہیں۔

دریائے چناب ملتان شہر سے کافی دور  بہتا ہے بلکہ یہ ملتان کی مغربی سمت میں بہتا ہے اور ملتان ضلع کو ضلع مظفر گڑھ سے الگ کرتا ہے۔  ملتان کئی دریاؤں کے سنگم سے بننے والے ایک موڑ میں واقع ہے۔ دریائے ستلج ملتان ضلع کو بہاولپور سے الگ کرتا ہے۔


دریائے چناب کے ملتان سے تعلق کے بارے میں اہم حقائق
آج کل ہم جس چناب کو جانتے ہیں یہ دریا ملتان کے مغرب میں واقع ہے۔
 تاریخی طور پر، چناب  کچھ صدیاں پہلے یہاں نہیں بہتا تھا۔ اس نے اپنا راستہ  یکسر بدل لیا ہے۔ چناب  1245 سے پہلے ملتان کے مشرق میں بہتا تھا لیکن 1397 تک اس کا بہاؤ مکمل بدل کر  شہر کے مغرب میں چلا گیا۔


چناب اور ستلج کاسنگم

 چناب بالآخر دریائے ستلج سے مل کر دریائے پنجند بنتا ہے۔


سیلاب کا خطرہ

غصیلے چناب کے قریب ہونے کی وجہ سے، ملتان کے کچھ حصے چناب سے آنے والے سیلاب کے خطرے سے دوچار  رہتے ہیں، خاص طور پر 2025 کی مون سون کے موسم میںیہ خطرہ بہت برھ گیا ہے کیونکہ پڑوسی ملک بھارت نے دریا کے اصل دسکورس کو متاثر کرنے والی بھاری مقدار میں پانی اپنے ڈیموں سے راوی، ستلج اور چناب میں چھوڑا ہوا ہے۔  ہیڈ محمد والا کے قریب کے علاقے، جہاں دریا کے پانی کی سطح کو مانیٹر کیا جاتا ہے، خاص طور پر خطرے میں ہیں۔