سٹی42: سندھ کی حکومت نے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں بڑھانے کے اہم معاملہ میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر برتری حاصل کر لی۔
آج صوبہ سندھ کا بجٹ پیش کیا گیا تو وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازموں کی تنخواہیں 12 فیصد بڑھائی جا رہی ہیں۔ یہ اضافہ 16 ویں گریڈ تک ملازموں کے لئے ہے۔ 17 ویں گریڈ کے ملازموں کے لئے تنخواہوں میں اضافہ دس فیصد کیا گیا ۔ سترھویں سکیل سے اوپر کے تمام ملازمین کے لئے ایڈہاک ریلیف دیا گیا۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی تقریر کے دوران جماعت اسلامی، ایم کیو ایم کے ارکان سارا وقت شور مچاتے اور بدتمیزی کرتے رہے۔
سندھ اسمبلی کا بجٹ پیش ہونے کے فوراً بعد پشاور مین خیبر پختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا تو وہاں موجود پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی پلے کارڈ اٹھا کر سپیکر کے روسٹرم کے سامنے جا کر احتجاج کیا لیکن بدتمیزی نہیں کی اور زیادہ شور نہیں مچایا۔ یہاں خیبر پختونخوا حکومت کے وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کیا تو سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں صرف دس فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کی پینشن صرف 7 فیصدر بڑھائی۔ سندھ میں پینشن 8 فیصد بڑھائی گئی ہے۔
اس طرح سرکاری ملازموں کو ریلیف دینے کے معاملہ میں سندھ کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر واضح برتری حاصل کر لی۔
پنجاب میں سرکاری ملازموں اور نجی ملازموں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اور پنجاب حکومت تنخواہوں میں اضافہ کے صحت مند مقابلے میں دوسری صوبوں کے مقابل کہاں کھڑی ہوتی ہے، اس کا پتہ 16 جون کو چلے گا جب پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ہو گا۔