اسلام آباد میں شدید بارش سےوفاقی دارالھکومت کے بہت سے علاقے زیر آب آگئے اور راولپنڈی میں نالہ لئی میں سیلاب آنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔ شہر میں "رین ایمرجنسی" نافذ کر دی گئی۔ راولپنڈی میں کئی علاقوں کے مکینوں کو گھر چھوڑ کر باہر مھفوظ مقامات پر چلے جانے کی وارننگ جاری کر دی گئی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں مسلسل بارشوں کے بعد نالہ لئی کی سطح میں 19 فٹ تک اضافہ ہوگیا۔ جس کے بعد انتظامیہ نے آبادی کو فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے الرٹ جاری کردیا۔
انتظامیہ نے نالہ لئی کے اطراف میں مقیم رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی اور تعاون کی ہدایت کردی۔
پیر کی شام کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی کی سطح 15 اعشاریہ 7 فٹ تک پہنچ گئی جبکہ پانی کا لیول کٹاریاں کے مقام پر 19 فٹ اور گوال منڈی کے مقام پر 14 فٹ سے اوپر چلا گیا۔
جڑواں شہروں میں بارش جاری ہے اور ایچ ایٹ کے ایریا میں جہاں میت ڈیپارٹمنٹ کا مرکزی دفتر ہے وہاں پر 98 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گولڑہ کے مقام پر76 ملی میٹر اور سیدپور میں 45، بوکرا میں 52 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
راولپنڈی میں نیو کٹاریاں کے مقام پر 63 ملی میٹر، پیرودھائی کے مقام پر 42، شمس آباد کے مقام پر 28 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اسلام آباد کی صورتحال
اب تک صورتحال یہ ہے کہ بارش کے باعث اسلام آباد کا سیکٹر جی 11 زیرآب آگیا ہے۔ مرگلہ کی پہاریوں سے اسلام آباد ٓٓنے والے تمام نالوں میں شدید تغیانی آگئی ہے۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی 8 مرکز میں ہر شے زیر آب آ گئی۔ کئی پلازوں کی بیسمنٹوں میں پانی گھس گیا۔ گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔
شہر کے مرکزی رہائشی سیکٹر جی سکس، جی سیون بھی بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
بنی گالہ اور سری نگر ہائی وے بھی زیرآب آگئے۔
مسلسل ہونے والی موسلادھاربارش کے باعث وفاقی دارالحکومت میں میٹرو بس کا روٹ بھی زیرآب آگیا۔
مری میں بھی آج موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ میٹ ڈیپارٹمنٹ نے مری میں آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
کچھ دیر پہلے تک کی اطلاع کے مطابق اسلام آبادکے مرگلہ کے دامن میں واقع گاؤں سید پور میں 40 ملی میٹر بارش ہوئی، گولڑہ میں 66 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔
راولپنڈی میں شمس آباد کے مقام پر25 ملی میٹر، پیر ودھائی میں 35 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی، راولپنڈی میں نیوکٹاریاں میں 60 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
لئی میں پانی کی سطح میں ہوشربا اضافہ
مرگلہ کی پہاڑیوں اور وسیع کیچمنٹ ایرا میں مسلسل شدید بارش ہونے کے سبب لئی نالہ میں پانی کی سطح کئی فٹ بڑھ چکی ہے اور راولپنڈی شہر کی گنجان نشیبی آبادیاں سخت خطرے میں آ گئی ہیں۔ واسا حکام راولپنڈی میں نالہ لئی اور شہربھرکے نالوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ لیکن حکام سیلاب آنے کی سورت میں امدادی کارروائیاں کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ راولپنڈی کے اندر سے گزرنے والے علاقوں میں آنے والے پانی کو شہر کے اندر آنے سے روکنے کا کوئی انتظام کرنا ممکن نہیں۔
ایم ڈی واسا سلیم اشرف کے مطابق واسا ہائی الرٹ پر ہے اور رین ایمرجنسی نافذ ہے، عملہ اور ہیوی مشینری فیلڈ میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ بارش کوپوری طرح مانیٹر کررہےہیں، تمام ضروری انتظامات کیےگئے ہیں، کسی بھی قسم کی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔