ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ’ہمارے جنگ کے مقاصد کو حاصل کرتا ہے.‘ ،نیتن یاہو

Netanyahu and Donald Trump, City42, USA plane for Gaza ceasefire, Hostage deal, withdrawl, IDF, Hamas, October 7 terrorist attack
کیپشن: اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو 29 ستمبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اسٹیٹ ڈائننگ روم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (فریم میں نطر نہیں آ رہے) کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ (فوٹو: ANDREW CABALLERO-REYNOLDS/AFP)

سٹی42: اسرائیل کے وزیرعظم  نتن یاہو نےآج اچانک غزہ میں جنگ بندی کے امریکی منصوبے کو بہترین قرار دیا اور  کہا ہے  کہ ٹرمپ کا غزہ منصوبہ ’ہمارے جنگ کے مقاصد کو حاصل کرتا ہے.‘

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے "ہمارے جنگ کے مقاصد حاصل ہوتے ہیں" اور یہ لڑائی ختم کر سکتی ہے۔

"یہ ہمارے تمام یرغمالیوں کو اسرائیل واپس لائے گا، حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرے گا، اس کی سیاسی حکمرانی کا خاتمہ کرے گا، اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ غزہ دوبارہ کبھی بھی اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔"

سیز فائر ڈیل کیسے کام کرے گی

نیتن یاہو کے مطابق پہلا قدم " اسرائیلی فوج کی معمولی واپسی" ہو گا جس کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کی رہائی ہو گی۔ اگلا قدم ایک بین الاقوامی ادارے کا قیام ہوگا جس پر حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو غیر عسکری طور پر ختم کرنے کی ذمہ داری ہو گی۔

اگر۔۔۔۔۔

اگر یہ بین الاقوامی ادارہ کامیاب ہو جاتا ہے، "ہم جنگ کو مستقل طور پر ختم کر دیں گے،" نیتن یاہو کا  آج وائت ہاؤس میں اعلان درحقیقت یہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کے غزہ سے انخلا کا تعلق،  پیش رفت یا غیر فوجی کارروائی سے ہوگا۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ ان پانچ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے جو انھوں نے جنگ کے خاتمے اور حماس کے متقبل کے لیے طے کیے تھے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل سلامتی کی ذمہ داری برقرار رکھے گا، جس میں مستقبل کے لیے (غزہ کے موجودہ رقبہ پر)" حفاظتی دائرہ"  تشکیل دینا بھی شامل ہے۔

حماس نہیں۔۔۔ اور فلسطینی اتھارٹی بھی نہیں!

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ (جنگ بندی کے بعد) غزہ کو حماس یا فلسطینی اتھارٹی نہیں چلائے گی۔

نیتن یاہو  آج اچانک بہت امن دوست نطر آئے، انہوں نے کہا ، ’’ہم ہر ایک کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے کام کرے۔

انہوں نے کہا  کہ ٹرمپ کی قیادت میں ہم جنگ جیتنے اور امن کو وسعت دینے کے لیے اگلا قدم اٹھا رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے ٹرمپ کی دوستی اور قیادت کے لیے شکریہ ادا کیا: "یروشلم سے تہران تک، گولان کی پہاڑیوں سے لے کر غزہ تک، آپ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ میں نے کئی بار کیا کہا ہے - آپ اسرائیل کے وائت ؤاس میں اب تک رہنے والے دوستوں میں سب سے بڑے دوست ہیں۔"