ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ سے اسرائیل کونکالنے کیلئے پاکستان اور سات مسلم ملک ذمہ داری سنبھالیں گے

 City42, Gaza peace plan, Trump plan, Gaza War, Hostages deal, ceasefire, International Peace keeping Force, Peace Force, Eight Muslim Countries
کیپشن: پاکستان اور سات دوسرے مسلم ملک مل کر غزہ کو سنبھالیں گے، اسرائیل غزہ سے فوج نکال لے گا، پاکستان 1967 سے پہلے والی فلسطینی سرحدوں کے مقوف پر کھڑٓ ہوا ہے، اسحاق ڈار کی اہم نیوز کانفرنس

سٹی42: نائب وزیراعظم  اور  وزیر خارجہ اسحاق ڈار  نےکہا  ہےکہ 8  اسلامی ملک مشترکہ منصوبے کے تحت فلسطین  میں  امن  فورس  تعینات کریں گے۔ امید  ہے کہ  پاکستان بھی فورس فلسطین بھیجنے  سے متعلق فیصلہ کرے گا۔ پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے، دیگر 7  مسلم ملک بھی ہماری پالیسی میں ساتھ ہیں، پاکستان کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں۔

 نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےفلسطین اور غزہ کے حوالے سے ہونے والی اہم ڈیویلپمنٹس کے متعلق آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے میڈیا کے ذریعہ عوام کو اعتماد میں لیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ  صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 8 اسلامی ملکوں کی ملاقات کا صرف ایک نکاتی ایجنڈا تھا کہ کسی طرح غزہ  میں فوری جنگ بندی کی کوشش کی جائے۔ جنگ بندی کے فوراً  بعد غزہ کی تعمیر نو کی جائے۔ مغربی کنارے  پر  اسرائیل کے قبضے کے منصوبے کو  روکا جائے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ  پاکستان اسلامی ملکوں کے مشترکہ  اعلامیےکا خیرمقدم کرتا ہے، اسلامی ممالک کےمنصوبےکے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات ہوگی، انڈونیشیا  نے اپنے 20  ہزار  فوجی فلسطین  بھیجنےکی پیشکش کی ہے، امید ہے کہ پاکستان بھی فورس فلسطین بھیجنے کےمتعلق فیصلہ کرے گا۔

  اسحاق ڈار نے بتایا،  ہم نے   اقوام متحدہ میں فلسطین کے معاملے پر اجلاس میں بھرپور آواز اٹھائی،غزہ میں جاری ظلم و بربریت کا معاملہ  بھرپور  طریقے سے اٹھایا، غزہ میں جنگ بندی اور مسلسل امداد کی فراہمی کے لیے مثبت بات چیت کی۔

 اسحاق ڈٓر نے بتایا کہ نیویارک میں امریکہ کے صدر  ٹرمپ  سے اسلامی اور عرب ممالک کے وزرا خارجہ اور لیڈروں کی اہم ملاقات  میں  فلسطین کے ایجنڈے  پر  پاکستان  کے ساتھ کل  8  مسلم ممالک  تیار  ہوئے تھے۔ 

ہم نے صدر ٹرمپ  سے غزہ  میں فوری جنگ بندی کروانے  اور   غزہ کے شہریوں کو فوری اور مسلسل امداد کی فراہمی یقینی بنانے کا معاملہ اٹھایا۔  بھوک کا شکار ہونے والے   فلسطینیوں کے لیے بھرپور  آواز  اٹھائی گئی۔   فلسطینی عوام کو  غزہ میں دوبارہ اپنے گھروں میں آباد کرنے کا معاملہ  اٹھایا۔ 

اسحاق ڈٓر نے کہا، فلسطین کے معاملے پر کوئی چھوٹا نہیں بہت بڑا  ایجنڈا  تھا،  اسرائیل کی مغربی کنارے  پر قبضے کی کوشش کو  روکنا بھی ایجنڈے میں تھا۔

 وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےکہا کہ  فلسطین  امن معاہدے  پر سعودی وزیر خارجہ مسلسل رابطے میں رہے۔ پاکستان، سعودی عرب، یواے ای، ترکیہ ، انڈونیشنا، ٹوٹل 8 مسلمان ملکوں نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ 

اسحاق ڈار نے بتایا کہ یہ 8 ملک فلسطین کے معاملے کا 1967 سے پہلےکی سرحدوں کے تحت حل کروانے کے لیے  پرعزم  ہیں، ہم 1967 سے پہلےکی سرحدوں کے تحت  خود مختار فلسطینی ریاست چاہتے ہیں،  ایسی آزاد  خود مختار  فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت  القدس شریف ہو۔

اسحاق ڈار  نےکہا کہ  فلسطینی اتھارٹی  (صدر محمود عباس کی حکومت) نے 8 ملکوں کے مشترکہ  اقدامات کا  خیر مقدم کیا ہے۔ 

اسحاق ڈٓر نے پاکستانیوں سے درخوواست کی کہ فلسطین کے معاملے پر سیاست  چمکانے سے گر یز کیا  جائے۔

وزیر خٓرجہ نے اپنی حکومت کی پوزیشن کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، ہم فلسطین سے اسرائیل کے مکمل انخلا کے لیے پر عزم ہیں۔ 

سوالات کے جواب میں اسحاق ڈار نے کہا،" فلسطین امن منصوبے کا صرف پاکستان نے نہیں 8 ملکوں نے خیر مقدم کیا ہے."، "کچھ لوگ فلسطین امن منصوبے پر تنقید کر رہے ہیں، سیاست کرنے والے کیا چاہتے ہیں کہ فلسطین میں لوگ مرتے رہیں?" ، "ہم سب کو اللہ کو  جان دینا ہے."، "اپیل ہے کہ اگر کوئی اچھا کام ہے تو  اسے کمرشل نہ بنائیں۔"

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ  "فلسطین میں گراؤنڈ پر فلسطین کی اتھارٹی کے  قانون نافذ کرنے والے ادارے ڈیل کریں گے۔"

اسحاق ڈار نے کہا، مجھے نہیں لگتا حماس اس معاہدے کی مخالفت کرےگی، ہمیں یقین دلایا گیا  ہےکہ معاہدہ  قبول کیا جائےگا۔ 

اسحاق ڈار کی نیوز کانفرنس کی مفصل رپورٹ

وزات خارجہ آفس میں ڈپٹی وزیراعظم،وزیر خارجہ سینٹر اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ  یو این جنرل اسمبلی کی 80وان سال سیشن میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کی۔

وزیراعظم نے چانسلر آف آسٹریا ،وزیراعظم کویت،امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،سری لنکا کے صدر،یو این جنرل سیکرٹری کے ساتھ میٹنگز کی۔

تمام میٹنگ اچھے ماحول میں ہویی،صدر ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ میں آٹھ ممالک تھے۔

سعودیہ عرب، اردن،قطر،مصر،پاکستان،ترکی،انڈونشیا کے سربراہان موجود تھے۔
 وزیراعظم نے فلسطین کا مقدمہ لڑا،انھوں نے اسرائیلی مظالم کا ذکر کیا۔

کشمیر کی صورتحال پر بات کی،اور کہا جنگ تو ہم جیت چکے پر ہم مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔

نائب وزیراعظم احاق ڈار نے بتایا کہ وزیراعظم کے خطاب کو  پہلے چوبیس گھنٹے میں 1 ملین ویوز ملے۔

انہوں نے کہا، پاکستان کی نمائندگی کا حق وزیراعظم نے ادا کیا۔کئی ممالک نے وزیراعظم کا ا کر شکریہ ادا کیا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ میں نے 09 ہائی لیول ایونٹس میں شرکت کی اور 20 میٹنگ میں شرکت کی ۔

22 ستمبر کو 8 وزراء خارجہ ملے،ائیڈیا تھا کے جو خوں بہ رہا ہے اسکو کیسے روکا جائے ۔

کامن ویلتھ،فورتھ ویلتھ کانفرنس آف وومن،سپیشل او آئی سی میٹنگ،او ایی سی کی 6 رکنی کمیٹی،یو این سیکورٹی کونسل میں فلسطین پر میٹنگ میں شرکت کی۔

کینیڈا میں وزیر خارجہ،ہنگری کے وزیرخارجہ،سیکرٹری جنرل گلف ،یوکے کی فارن منسٹر،بیلجیم کے وزیر خارجہ،بحرین کے ،کوسٹاریکا،جرمنی کے وزیر خارجہ سے میٹنگ کی

ترکی کے وزیرخارجہ،ترکی کے صدر،شام کے صدر سے،ملیشا کے وزیرخارجہ،مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کی۔

ان تمام میٹنگز میں پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے بھرپور ورکنگ رہی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہمارا ایجنڈا دو چیزوں پر تھا،یو این جنرل اسمبلی میں  شرکت، مسلم امہ کے ممبر کی حیثیت سے کوشش تھی کہ  یہاں (غزہ میں) خون بہایا جا رہا ہے اس پر کوشش کی جائے کہ فوری طور پر وہ سلسلہ رکے۔

اسحاق ڈار نے نیویارک میں گزشتہ ہفتے ہونے والی دنیا کی سب سے اہم اور پیچیدہ ڈپلومیسی کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ٹھ ممالک اس بات پر متفق تھے کے صدر ٹرمپ کے سامنے غزہ کا مسلہ اٹھایا جائے۔

اس میٹنگ سے پہلے ہم نے الگ سے میٹنگ  کی، لائحہ عمل بنایا  64 ہزار لوگ جو شہید ہو چکے،ڈیڑھ لاکھ لوگ زخمی ہوئے،امداد بھی نہیں جا رہی۔

آٹھ اسلامک ممالک کی میٹنگ کا ایک ہی ایجنڈا تھا کے سیز فائر کے لیے کوشش کی جائے۔

جو خون بہایا جا رہا ہے رکے،امداد پہچانے کے لیے ورکنگ ہو سکے،جو لوگ نکالے گئے انکو واپس لایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ کو تفصیل کے ساتھ یہ ایجنڈا بتایا گیا۔

انھوں نے کہا کے میری ٹیم اور آٹھ وزیر خارجہ بیٹھیں اور 48 گھنٹوں میں کویی ورک پیپر کے کر آئیں۔

انکی ٹیم آئی انکی اپنی تجاویز تھی ،پھر ہم لوگ دوبارہ بیٹھے اور ترمیم کر کے دوبارہ پرپوزل تیار کیا۔

جمعے کی رات کو پرپوزل امریکہ چلا گیا تھا،اٹھ ممالک نے پاکستان سمیت اس پر اتفاق کیا اور سب نے ذمےداری ادا کی۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ اس کے بعد صدر ٹرمپ کی اسرائیلی وزیراعظم سے میٹنگ ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی کہ ہم مڈل ایسٹ میں امن کے قریب ہیں۔

اس کے بعد سعودی وزیرخارجہ پرنس فیصل نے بتایا ہے پانچ ممالک نے اس پر اتفاق کر لیا ہے۔

یو اے ای،انڈونیشیا،پاکستان کے وزرائے خارجہ کا انتظار ہے۔

میں نے چند چیزوں پر تبدیلی کی اور سب وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا ۔

فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس پروپوزل کو ویلکم کیا ہے۔

آٹھ ممالک نے اس پروپوزل کو ویلکم کیا ہے۔

فلسطین کے عوام کی نمائندہ فلسطینی اتھارٹی ہم سے خوش، یہاں لوگ تنقیدیں کر رہے

وزیر خٓرجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے تاسف کے ساتھ کہا، میں دیکھ رہا ہوں کے فلسطینی اتھارٹی تو  اسکو ویلکم کر رہی ہے اور یہاں کچھ لوگ تنقید کر رہے ہیں۔

 ہم نے اللہ کو راضی کرنا ہے،میں اللہ کو راضی کرنے کے لیے سب کچھ کر رہا تھا۔میں اپنے مصروف ترین شیڈول میں مسلسل کام کر رہا تھا۔

یہ اللہ کا کرم ہے،اللہ پاک ہم آٹھ ممالک کو توفیق دے کے ہم اس کام کو پایہ تکمیل تک لے کر جایئیں۔

اچھا کام ہو رہا ہے، اس کو مشکوک مت بناؤ

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا، کم از کم اس چیز کو تو "سیاست" سے الگ کر دیں۔

میری گزارش ہے کے اگر اچھا کام ہو رہا ہے تو اسکو مشکوک نہ بنائیں.

سیاست کرنے کے لیے بہت سارے موضوع ہیں۔

اللہ نے یہ کام جن آٹھ ممالک سے لیا ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا، اللہ نے یہ کام جن آٹھ ممالک سے لیا ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تجویز  یہ ہے کہ(غزہ کی تعمیرِ نو اور انتظام چلانے کے لئے)  فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت ہو گی جس میں زیادہ تر فلسطینی ہوں گے،

ٹونی بلیر کافی وقت سے کام کر رہے ہیں۔ شاید اس بار ان کو موقع مل جائے۔

انڈونیشنا 20 ہزار امن اہلکار بھیجےگا، پاکستان نے فیصلہ کرناہے

اسحاق ڈار نے بتایا کہ غزہ میں نظام چلانے کے لئے  فیلڈ میں فلسطینی فورس ہو گی

انڈونیشیا نے 20 ہزار پرسنل  (غزہ بھیجنے) کا کہا ہے،پاکستان نے ابھی فیصلہ کرنا ہے
اسحاق ڈٓر نے بتایاکہ امریکہ کے صدر کی طرف سے جو ٹیم ہمارے پاس (آٹھ مسلم ممالک کے وزرا خارجہ کے پاس)  آئی انھوں نے 20 نکاتی ایجنڈا دیا۔

ہم نے اسی 20 نکاتی ایجنڈا میں ترمیم کر کے پروپوزل فائنل کیا۔

اسحاق ڈٓر نے واضح الفاظ میں کہا، پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے،اس دورہ میں بھی ہم نے بار بار دورے کئے؛  پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

باقی سات ممالک بھی ہمارے ساتھ ہیں ۔

جنرل مشرف کا جہاں تک تعلق ہے اللہ انکو غریق رحمت کرے،وہ دنیا سے رخصت ہو چکے، مناسب نہیں کے انکو بحث میں لایا جائے۔
فلسطین میں ٹیکنوکریٹ حکومت میں فلسطینی،نان فلسطینی شامل ہوں گے،اسکی سربراہی شاید ٹونی بلیر کریں۔

اسرائیل سےہم نے  کوئی براہ راست بات نہیں کی

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ ہم نے رابطہ نہیں کیا ہم نے امریکہ سے رابطے رکھے، ،ہمیں اچھی امید رکھنی چاہیے۔

اگر اسرائیل نے (اسرائیل کے وزیراعظم نے)  کچھ کہا ہے اس پروپوزل پر،  تو اسے اگنور کرنا چاہئے۔

"اتھارٹی"  فلسطینی اتھارٹی ہے، فلسطینی اتھارٹی نے اس منصوبے کو خوش آمدید کہا

اسحاق ڈار نے نیوز کانفرنس میں یقین کے ساتھ بتایا کہ حماس اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ 

اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ حماس کے  ساتھ (دو عرب ملکوں کے) ڈائیلاگ چل رہے تھے،ایک ملک نے گارنٹی دی کہ حماس اس کی مخالفت نہیں کرے گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اس وقت جو اتھارٹی ہے وہ فلسطینی اتھارٹی ہے،فلسطینی اتھارٹی نے ویلکم کیا oy.

وہاں پانچ عرب ممالک ہیں،انھوں نے گارنٹی دی کے حماس اسکو قبول کرے گی اور حماس کچھ نہیں کرے گی تو ہمیں اسکو قبول کرنا چاہئے۔