ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ کے لیے ٹرمپ کا منصوبہ کیا ہے اور کیا یہ کام کرے گا؟

President Trump, Prime Minister Netanyahu, Gaza War, Ceasefire in Gaza, City42
کیپشن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 ستمبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا استقبال کر رہے ہیں۔ SAUL LOEB / AFP

سٹی42:  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بند کروانے اور اسرائل، فلسطین امن کرانے کے لئے جو  21 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے اس کی پاکستان نے تو حمایت کر دی ہے لیکن حماس کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔ 
الجزیرہ نیوز نے آج شب اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 21 نکاتی منصوبے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نیتن یاہو  آن بورڈ ہیں، لیکن حماس کا کہنا ہے کہ اسے ابھی تک کوئی تجویز موصول نہیں ہوئی ہے۔

Captionسابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے 21 نکاتی امن منصوبے میں بڑا تعاون کیا ہے۔ ٹونی بلئیر نے خود بھی مفصل کام کر کے غزہ جنگ رکوانے اور فلسطین اسرائیل امن کیلئے کچھ کام کر رکھا ہے۔

 غزہ میں دو سال سے جاری اسرائیل اور حماس کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی کے نئے امریکی منصوبے کی خبریں آج پیر اور منگل کی درمیانی رات اچانک زور پکڑ رہی ہیں۔آج  پیر کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ملاقات میں اس منصوبے پر بات ہوئی اور اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس منصوبے پر اسرائیل کے پرائم منسٹر کے اتفاق کرنے کے اعلان کے ساتھ یہ بتایا کہ وہ خود اس منسوبے پر عملدرآمد کروانے کے لئے  قائدانہ کردار سنبھال رہے ہیں۔ 

الجزیرہ نیوز نے حماس کے حوالے سے بتایا ہے کہ انہیں اب تک اس منصوبے سے رسمی طور پر آغاہ نہیں کیا گیا۔

الجزیرہ نیوز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے، "ٹرمپ کا 21 نکاتی منصوبہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کو ختم کر دے گا، جس میں اکتوبر 2023 سے شروع ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 66,055 افراد ہلاک اور 168,346 زخمی ہو چکے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مزید ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔'

ٹونی بلئیر کا منصوبہ اور ٹرمپ کا منصوبہ

آج سامنے لایا جانے والا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 21 نکاتی  منصوبہ مبینہ طور پر برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی اس تجویز پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے جو اتوار کو اسرائیل کے اخبار ہاآریتز نے مکمل طور پر شائع کیا تھا،  ٹونی بلئیر کے منصوبہ میں حماس کو غزہ سے ہٹانے اور امریکہ کے لیے عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر "ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس" کی تنصیب کے لیے کام کرنا  تجویز کیا گیا ہے۔ 

غزہ میں کون کون رہیں گے

صدر ٹرمپ کے 21 نکاتی منصوبے کے متعلق اہم سوال یہ ہے کہ "ٹرمپ کا 21 نکاتی منصوبہ غزہ کی تطہیر کے بارے میں کیا کہتا ہے"
اس منصوبے کا ایک بڑا نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے غزہ  میں کلینزِنگ / تظہیر  / صفائی کرنے کی اپنی بیان بازی پر نرمی کی ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق  صدر ٹرمپ کے منصوبے کا پوائنٹ 12 کہتا ہے: "کسی کو بھی غزہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن جو لوگ وہاں سے نکلنے کا انتخاب کرتے ہیں انہیں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ مزید یہ کہ غزہ کے باشندوں کو پٹی میں رہنے کی ترغیب دی جائے گی اور وہاں ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کا موقع فراہم کیا جائے گا۔"

فروری 2025  میں صدر ٹرمپ کا اس معاملہ میں جو  موقف تھا، اپنے اس  مؤقف سے یہ ایک بڑی رخصتی ہے جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ غزہ کو "حاصل" کر لے گا اور "اپنی ملکیت" میں لے گا اور غزہ میں مقیم لوگوں کو ایک شاندار تعمیر نو کے منصوبے کے لیے راستہ بنانے کے لیے باہر دھکیل دے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان نے دنیا کو چونکا دیا تھا۔ بعد مین ٹرمپ نے مصر اور اردن سے غزہ کے باشندوں کو غزہ کی تعمیر نو ہونے تک اپنے ہاں رکھ لینے کے موضوع پر رابطہ کاری بھی کی تھی لیکن اس تجویز کی ہر طرف سے صرف مخالفت ہی ہوئی تھی۔

حماس کے بارے میں کیا خیال ہے؛ عام معافی اور سیف پیسیج
پچھلے منصوبوں اور  انگلینڈ کے ایکس پرائم منسٹر ٹونی بلیئر کی تجویز کی طرح، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے تحت حماس کا غزہ میں کوئی کردار نہیں ہوگا حالانکہ ٹرمپ کے منسوبے کے مطابق حماس کے ارکان کو عام معافی دی جائے گی بشرطیکہ اگر وہ "پرامن بقائے باہمی" کا عہد کریں گے۔  جبکہ جو لوگ غزہ چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں قبول کرنے والے ممالک کو جانے کے لئے محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

غزہ کا نظام کون چلائے گا؛ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کی عبوری حکومت

صدر ٹرمپ کے منصوبے میں کہا گیا ہے: "غزہ کا انتظام فلسطینی ٹیکنو کریٹس کی ایک عارضی، عبوری حکومت کے زیر انتظام ہو گا جو اس پٹی کے لوگوں کے لیے روزانہ کی خدمات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔

فلسطینی اتھارٹی اپنی اصلاح کرےگی اور تب تک ٹرمپ کمیٹی نگرانی کرےگی

صدر ٹرمپ کے منصوبہ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ہی سربراہی میں کام کرنےوالی "کمیٹی عرب اور یورپی شراکت داروں کی مشاورت سے امریکہ کی طرف سے قائم کی گئی ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کی نگرانی کرے گی۔ یہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے ایک فریم ورک قائم کرے گی جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل نہیں کر لیتی۔"

اس عارضی حکومت کو ممکنہ طور پر غزہ انٹرنیشنل ٹرانزیشنل اتھارٹی (جی آئی ٹی اے) کہا جائے گا اور اس کے پہلے سال میں 90 ملین ڈالر کا انتظامی بجٹ ہوگا، جو اس کے بعد کے دو سالوں میں 133.5 ملین ڈالر اور 164 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ تعمیر نو اور انسانی امداد کے اعداد و شمار کو بھی شامل کرنے سے پہلے کی بات ہے۔

تاہم، فلسطینی اتھارٹی (PA) کو  غزہ کا مکمل کنٹرول منتقل کرنے، فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے کوئی متعین ٹائم لائن نہیں ہے۔

آج پیر کے روز تک پوزیشن یہ ہے کہ  اسرائیل کا پرائم منسٹر نیتن یاہو  منظم طریقے سے PA کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے،  فلسطینی اتھارٹی کا مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں پر کنٹرول محدود ہے، اور نیتن یاہو امریکہ جانے سے پہلے کہہ چکا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ملوث ہونے پر اعتراض کرے گا۔

کیا ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کے مسلط کردہ قحط کو ختم کر دے گا؟ امداد کون تقسیم کرے گا
اس منصوبے میں غزہ کو بیرونی انسانی ہمدردی  امداد کی، جنوری میں طے ہونے والی مقدار پر  بحالی کا بھی ذکر ہے، جو کہ یومیہ امداد کے تقریباً 600 ٹرک ہے۔

یہ امداد اقوام متحدہ، ہلال احمر اور دیگر تنظیموں کے ذریعے تقسیم کی جائے گی جن کا اسرائیل یا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اس اہم تجویز کو اپنے منصوبہ میں شامل کر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  اپنی سابق پوزیشن کو تقریباً مکمل ترک کر دیا ہے، کچھ ماہ پہلے جب  نیتن یاہو نے غزہ میں اسانی امداد کے جانے پر سخت ناکہ بندی کر کے پابندی لگا دی تھی تو ٹرمپ نے ایک نئی امریکی آرگنائزیشن قائم کروا کے محدود  سطح پر امداد تقسیم کرنے کا متبادل نظام بنایا تھا جس میں اقوام متحدہ کے اداروں اور ان کے ساتھ کام کرنےوالی کسی این جی او کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ امداد کے اس نظام کے تحت امداد کی تقسیم کے عمل میں درجنوں افراد اسرائیلی فوج کی گولیوں سے مارے گئے تھے۔ کیونکہ اس نظام میں خوراک کی تقسیم کے عمل کی سکیورٹی کے لئے اسرائیل کی فوج کو کردار دیا گیا تھا۔ 

دی ٹائمز آف اسرائیل نے بھی اپنی رپورٹ میں یاددلایا ہے کہ غزہ میں امداد اب GHF کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے، اور یہ واضح نہیں ہے کہ(اس منصوبہ میں) اس فاؤنڈیشن کی حیثیت کیا ہوگی، کیونکہ یہ تکنیکی طور پر ایک امریکی تنظیم ہے، حالانکہ یہ "حکومت سے منسلک اسرائیلیوں کے دماغ کی اختراع" ہے۔

ٹونی بلئیر- ایک سابق برٹش وزیر اعظم کیوں متحرک ہے
ایک تو، بلیئر کو  بعض عرب ریاستوں میں عبوری انتظامیہ قائم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ شراکت کا تجربہ ہے۔

ٹرمپ کے منصوبے کے تحت، 72 سالہ بلیئر، جو 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے، کو GITA کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے، جو کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی اتھارٹی PA اور حماس کو سائیڈ لائن کرے گی۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق،  ٹونی بلیئر کئی مہینوں سے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جنہوں نے ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل چینج کو جنگ کے بعد کے منصوبے کے ساتھ آنے کے لیے یہ کام دیا تھا۔ کوشنر  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی پہلی مدت کے دوران ٹرمپ کے سینئر مشیر تھے اور حال ہی میں جنگ کے بعد غزہ پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کو مشورہ دیتے رہے ہیں۔



کیا  ٹرمپ کا یہ منصوبہ واقعی جنگ کو ختم کر سکتا ہے
آئیے دیکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے آج انکشاف کیا کہ، صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کو یہ منصوبہ پیش کیا تھا۔

جیسا کہ ابراہیم معاہدے کا معاملہ ہے، جس سے کچھ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آ گئے تھے۔

ٹرمپ کے منصوبے کے متعلق یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ اب تک اس کے متعلق فلسطینیوں کی طرف سے بہت کم معلومات حاصل کی گئی ہیں۔

ان اعلانات کے باوجود کہ حماس نے ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے،آج حماس گروپ نے کہا کہ اسے ٹرمپ کی طرف سے ابھی کچھ موصول نہیں ہوا۔

اس کے بعد نیتن یاہو کا مسئلہ ہے، جس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل واشنگٹن کے ساتھ "[منصوبہ] کو آگے بڑھانے" کے لیے کام کر رہا ہے، لیکن نیتن یاہو کے متعلق تاثر یہ ہے کہ وہ آخری لمحات میں تبدیلیاں لا کر ماضی کے معاہدوں کو ناکام بنا دیتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیتن یاہو یہ تبدیلیاں اور ناقابل قبول مطالبات ، غزہ جنگ بندی کی ڈیل کو ختم کرنے کے لیے، حماس پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے کہ اسرائیل غزہ پر بمباری جاری رکھ  سکے۔

نیتن یاہو جنگ کو طول کیوں دیتے ہیں، جنگ بندی سے کیوں بھاگتے ہیں

گزشتہ کم و بیش ایک سال سے یہ چل رہا ہے کہ اسرائیل کے اندر لوگوں کی بڑی تعداد حماس کی قید سے یرغمالیوں کی واپسی کے لئے کسی سمجھوتے اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے اور اس دباؤ کے جواب میں  اسرائیل کی حکومت میں  نیتن یاہو  کے اتحادی بار بار کہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو جنگ ختم کرتے ہیں تو وہ ان کے حکومتی اتحاد کو ختم کر دیں گے۔

بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ نیتن یاہو کو جنگ کے خاتمے پر راضی کرنے کے لیے، ٹرمپ کو  نیتن یاہو پر شدید دباؤ ڈالنے کی ضرورت پڑی ہوگی۔

اس دوران اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کی خصوصی توجہ غزہ شہر  کے مرکزی حصہ (غزہ سٹی) پر ہے۔ غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں میں پانچ امداد کے متلاشیوں سمیت کم از کم 50 فلسطینی ہلاک اور دیگر 184 زخمی ہوئے۔