ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غزہ امن معاہدے کے قریب، وزیراعظم شہباز اور فیلڈ مارشل نے حمایت کی، ٹرمپ

 Donald Trump, Gaza Peace Plan, Israel Hamas war, Gaza war, Hostages deal, Arab nations and Gaza, Field Marshal Asim Munir,
کیپشن: وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو (دائیں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مصافحہ کر رہے ہیں، وائٹ ہاؤس میں، واشنگٹن، ڈی سی، 29 ستمبر، 2025۔ (یو ٹیوب اسکرین شاٹ)

سٹی42:  امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے  غزہ میں جنگ بندی کے نئے منصوبہ کو تمام عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

اسرائیل کے  وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ وائت ہاؤس کے اوول آفس میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہم غزہ میں امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔  امن معاہدے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جبکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی غزہ میں میرے امن منصوبے کی مکمل حمایت کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ نیتن یاہو سے آج ہونے والی ملاقات میں اس سے متعلق اہم امور پر بات چیت ہوئی، غزہ جنگ کا خاتمہ مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے ویژن کا چھوٹا سا حصہ ہے، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے آج ایک تاریخی دن ہے۔

جنگ کی دوسری فریق حماس سےعرب ملک بات کریں گے

صدر  ٹرمپ نے کہاکہ حماس سے عرب ممالک بات کریں گے، اگر حماس نے معاہدہ قبول نہ کیا تو پھر نیتن یاہو کی مرضی  ہو گی کہ وہ جو چاہیں کریں۔

 ٹرمپ نے کہا، ہم غزہ میں حماس کی قید مین موجود  22 زندہ یرغمالیوں کی زندہ واپسی اور  32 فوت ہو چکے یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ہم غزہ میں عبوری انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے، میری سربراہی میں امن کونسل غزہ کی عبوری انتظامیہ کی تشکیل کی ذمہ دار ہوگی۔

امریکی صدر نے کہاکہ کونسل کا صدر میں خود ہوں گا، جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس کے رکن ہوں گے۔غزہ کی  عبوری حکومت  ٹیکنوکریٹ فلسطینیوں اور دنیا بھر کے ماہرین پر مشتمل ہوگی۔

 ٹرمپ نے اس نیوز کانفرنس میں یہ بھی  کہاکہ میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم کرتا ہوں۔

 ٹرمپ ےن انکشاف کیا کہ مسلم ممالک نے ان کے ساتھ غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس، انگلینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا، پرتگال جیسی انتہائی ترقی یافتی اتحادی ریاستوں کے نیتن یاہو کی پالیسیوں سے تنگ آ کر فلسطین کو ریاست کی حیثیت سے تسلیم کر لینے کے حالیہ بہت برے واقعہ پر سوالات کے جواب میں کہا،  کچھ ممالک نے ناسمجھی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلیا ہے، بہت سے فلسطینی سکون سے زندگی جینا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہاکہ حماس نے اگر اس معاہدے کو قبول کرلیا تو یرغمالیوں کی رہائی میں 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔

حماس کیا کہتی ہے

ٹرمپ کے  مجوزہ منصوبے میں حماس کی گزشتہ شرائط سے بہت پیچھے ہٹ کر صرف یہ پیشکش کی گئی ہے کہ حماس تمام یرغمالیوں کو   48 گھنٹے مین واپس کر دے، اسرائیل علامتی طور پر غزہ سے کچھ انخلا کرے گا لیکن وہیں رہے گا، حماس کے لوگ غزہ سے نکل جائین گے اور اسرائیل انہیں محفوظ راستہ دے گاْ

ٹرمپ کی ان پیچیدہ تجاویز میں اہم نکتہ یہ ہے کہ حماس کا فسلطین کے مستقبل کے معاملہ میں کوئی کردار نہیں۔ 

حماس کا کہنا ہے کہ ان تک یہ تجاویز اب تک نہیں پہنچیں۔