ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

یرغمالیوں کی48گھنٹے میں واپسی، اسرائیل کا مرحلہ وار انخلا، ٹرمپ نیتن یاہو منصوبہ پر متفق

Gaza ceasefire, City42 , Trump Netanyahu meeting, Oval Office, White House, Palestinian Authority , Hamas, Hostages deal
کیپشن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 ستمبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا استقبال کر رہے ہیں۔ فوٹو:  SAUL LOEB / AFP

سٹی42:  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ مین جنگ بند کرنے کے ٹرمپ کے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے اور  ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ نیوز کانفرنس کر کے اس منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے بہت زیادہ  پر امید ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے میں فوری جنگ بندی، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا اور 48 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اسرائیل 1000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں  صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو  کی آج ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔ اس نیوز کانفرنس میں ٹرمپ نے غزہ میں  حماس کےساتھ جنگ بند کرنے کے نئے منصوبے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اسرائیل کے وزیراعظم اس منصوبے سے مکمل متفق ہیں۔  اس منصوبے میں اسرائیل کے یرغمالیوں کی واپسی کے عوض  حماس کے کارکن قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی اور حماس کے کارکنوں کو غزہ سے نکلنے کا محفوظ راستہ دینے  کی بات کی گئی ہے لیکن حماس کو غزہ میں مستقبل میں کوئی کردار نہ دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔ 

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی پریس کانفرنس کے اہم نکات
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں غزہ کے مستقبل کے حوالے سے 20 نکاتی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔

یہاں انہوں نے جو کہا اس میں سے کچھ خاص نکات یہ تھے:

ٹرمپ نے حماس سے تجویز کی شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کیا اور یقین ظاہر کیا کہ حماس ان کی شرائط پر راضی ہو جائے گی۔ بنیادی مطالبہ یرغمالیوں کی 48 گھنٹے میں رہائی اور اسرائیلی فوج کی غزہ سے بتدریج واپسی ہےاس کے ساتھ گزہ کے مستقبل سے حماس کو الگ رکھنے کی بھی بات ہے۔
نیوز کانفرنس میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حماس معاہدے کو قبول نہیں کرتی یا راستے میں پیچھے ہٹ جاتی ہے تو اسرائیل پھر "خود ہی کام ختم کر دے گا"۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ غزہ میں آگے بڑھنے کا ایک "حقیقت پسندانہ" راستہ فراہم کرتا ہے اور یہ کہ ہمارے "غزہ جنگ کے مقاصد " کو  پورا کرتا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ سے اسرائیل کا انخلا بتدریج ہوگا اور یہ انخلا حماس کے اسلحہ چھوڑ دینے  کی حد سے جڑا ہوا ہوگا۔
 ٹرمپ اور نیتن یاہو  نے  غزہ کی بحالی کے لئے ایک نئے بین الاقوامی نگران ادارے کے قیام، فلسطینی قیادت میں عبوری حکومت کے قیام اور غزہ میں مخاصمت کے خاتمے کی تصدیق کی۔

ٹرمپ نیتن یاہو  اپنی نیوز کانفرنس میں حماس کے ساتھ غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر  پہنچنے کے متعلق 'بہت پراعتماد' ہیں۔ لیکن اسی وقت حماس نے  بتایا ہے کہ ٹرمپ کی تجاویز باضابطہ طور پر ان تک نہیں پہنچیں۔ 
 صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر 29 ستمبر کو  وائت ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ ملاقاتاور مشاورت کے بعد اوول آفس میں صحافیوں کے سامنے آئے تو وہ غزہ معاہدے کے امکانات کے بارے میں پر امید تھے۔

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں کہا، "میں ہوں، میں بہت پراعتماد ہوں،" جب پوچھا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ غزہ میں امن ہو گا۔ٹرمپ نے صحافیوں کے سامنے کہا،  "بہت پر اعتماد"۔

جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا تمام فریق تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے، حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کو آزاد کرانے اور فلسطینی عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے کے 21 نکاتی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ ٹڑمپ کا جواب وہی تھا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ سب فریق معاہدہ کے لئے تیار ہوں گے۔ 

ٹرمپ کی تجاویز اور مسلم ممالک

امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں عرب رہنماؤں  اور پاکستان کے نمائندوں سے  ان کے خاص اجلاس میں جا کر ملاقات کی اور اتوار کو سوشل میڈیا پر کہا کہ " پہلی بار سب کچھ خاص کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے امید کی بہت کم وجہ بتائی ہے۔ دو دن پہلے (جمعہ کے روز) نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں  ایک منحرف تقریر میں حماس کا "کام ختم" کرنے کا عزم کیا اور کئی مغربی ممالک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے والے اعلانات کو مسترد کر دیا۔ وہ اسرائیل میں بھی یہ اعلان کر کے آئےتھے کہ ننیویارک اور واشنگٹن سے واپس آتے ہی، آئندہ بدھ کو (کل یکم اکتوبر) وہ اسرائیل کے غربِ اردن کے کچھ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اپنے متنازعہ منصوبے پر عملدارآمد کیلئے اہم فیصلے کریں گے۔

پیر کی دوپہر سے پہلےوائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ یہ جوڑا دوپہر 1:15 پر ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کرنے والا ہے، جس سے ظاہر ہوا  کہ ٹرمپ کسی پیش رفت کا اعلان کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے پیر کے روز فاکس نیوز کو بتایا کہ "ایک اچھی ڈیل تک پہنچنے کے لیے، دونوں فریقوں کے لیے ایک معقول ڈیل، دونوں فریقوں کو تھوڑا سا ترک کرنا ہوگا اور وہ میز کو تھوڑا ناخوش چھوڑ سکتے ہیں۔"

ٹرمپ کے منصوبے کے متعلق ان کی خوش امیدی اپنی جگہ لیکن جنگ کے دوسرے فریق  حماس نے ابھی تک اس منصوبے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

'مضبوط رہیں'
ٹائمز آف اسرائیل اور امریکی نیوز سائٹ Axios کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں فوری جنگ بندی، مرحلہ وار اسرائیلی انخلا اور 48 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اسرائیل 1,000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا، جن میں سے کئی عمر قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔

عام طور پر نیتن یاہو کے ایک کٹر اتحادی، امریکی صدر نے ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم ک نیتن یاہو کا آج  وائٹ ہاؤس کا چوتھا وزٹ ہے۔ اس وزٹ سے پہلے نیتن یاہو نے نیویارک میں جنرل اسمبلی میں اور اس سے پہلے یروشلم میں اپنے ویڈیو بیان میں فلسطین کو تسلیم کرنے والے ملکوں پر گرجنےے برسنے کے ساتھ حماس کے خلاف جنگ مزید بڑھانے، فلسطین کے علاقوں کو ضم کرنے اور محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی کو کسی بھی کام مین کوئی اہمیت نہ دینے جیسی سخت پوزیشنیں لے رکھی تھیں۔

خود ٹرمپ بھی فلسطین کو تسلیم کرنے والے ملکوں اور حماس کے متعلق نیتن یاہو جیسی ہی رائے ظاہر کر چکے تھے البتہ  ٹرمپ امریکہ کے اہم اتحادی قطر میں حماس کے ارکان پر اسرائیل کے حالیہ حملے سے برہم تھے۔ اور نیتن یاہو نے  جو غرب اردن کے علاقوں کو ضم کرنے کا منصوبہ بتایا تھا اس پر ٹرمپ گذشتہ ہفتے ہی نیتن یاہو کو  باز رہنے کے لئے کہہ چکے تھے اور نیتن یاہو  کل بدھ کو اس منصوبے پر عمل کرنے کا اعلان کر کے ہی اسرائیل سے امریکہ آئے تھے۔

 آج دوپہر پھر اچانک یہ ہوا کہ نیتن یاہو اور ان کے ساتھ ٹرمپ بھی جنگ بندی کے نئے منصوبے کے متعلق بہت زیادہ پر امید ہونے کے دعوے ےکے ساتھ میڈیا کے سامنے آئے۔

یروشلم میں  نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ اتحادی ارکان نے چندروز کے دوران مسلسل اس بات پر زور دیا ہے کہ غرب اردن کے کچھ علاقوں کا اسرائیل میں انضمام ہونا لازمی ہے ان کے نزدیک یہ  ایسا اقدام ہو گا جو فلسطینی ریاست کے راستے کو سنجیدگی سے پیچیدہ بنا دے گا۔

بعض صحافتی ذرائع  کہہ رہے ہیں کہ کچھ دن کے دوران سفارت کاروں نے ٹرمپ پر اسرائیل کو جنگ کے خاتمے کی طرف دھکیلنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو انتہائی دائیں بازو کے وزراء کی حمایت اس شرط پر حاصل ہے  کہ وہ حماس کے ساتھ امن معاہدے کی مخالفت کرتےرہیں۔

اس تناظر میں صدر ٹرمپ کے مجوزہ معاہدے کا راستہ انہونی پیچیدگیوں سے بھرا ہوا ہے۔ اسرائیل اور عرب ریاستیں دونوں اب بھی امن منصوبے کے کلیدی حصوں، بشمول جنگ کے بعد غزہ میں کسی بھی بین الاقوامی طاقت اور رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے کردار کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے اتوار کے روز فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک اصلاح شدہ فلسطینی اتھارٹی کا امکان جو مکمل طور پر اپنی پٹیوں کو بدل دے، جو ایک یہودی ریاست کو قبول کرے… ایک ان ہونا کام ہے۔

گزشتہ دنوں یہ بھی ہوا تھا کہ اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کی جنگ بندی کی طرف جانے کی بجائے جنگ بڑھانے کی طرف جانے کی  انتہائی ضدی پالیسی سے تنگ آئے ہوئے "یرغمالیوں کے اہل خانہ"  نے ٹرمپ کو براہ راست خط لکھا اور ان پر زور دیا کہ وہ غزہ کی اپنی تجویز کو برقرار رکھیں۔ یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے ٹرمپ کے نام کھلے خط میں کہا، "ہم احترام کے ساتھ آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ثابت قدم رہیں"۔