ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حماس نے غزہ میں جنگ  بندی کی نئی تجویز ٹیبل پر آنے سے پہلے ہی مسترد کر دی

 حماس نے غزہ میں جنگ  بندی کی نئی تجویز ٹیبل پر آنے سے پہلے ہی مسترد کر دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  غزہ میں روزانہ بچوں کے مرنے کی خبریں آ رہی ہیں، امریکہ نے جنگ بندی کا جو نیا منصوبہ پیش کیا، اسے اسرائیل نے مان لیا، لیکن حماس نے اس منصوبے کر  ٹیبل پر آنے سے پہلے ہی مسترد کرنے کا اعلان کروا دیا جس کے بعد جنگ بند ہونے کی جو امید چند گھنٹے پہلے پیدا ہوئی تھی وہ دم توڑ گئی۔ 

 حماس کے سینئر عہدیدار  نے اعلان کیا ہے حماس  غزہ سیز فائر اور  اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مجوزہ امریکی منصوبہ مسترد کردیں گے۔

 برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے اس "سینئیر عہدیدار" نے کہا غزہ سیز فائر اور  یرغمالیوں کی رہائی کے لیے امریکاہ کی تجویز  جنگ کے خاتمے سمیت بنیادی مطالبات کو پورا نہیں کرتی اس لیےہم  اسے مسترد کر دیں گے۔ 

"سینئر عہدیدار " نے کہا کہ حماس کی جانب سے امریکی مجوزہ منصوبے پرباضابطہ ردعمل آنے والے دنوں میں دیاجائےگا۔

امریکہ نے غزہ میں  60 دن کی جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، اس تجویز کو اسرائیل کے وزیراعظم نے قبول کر لیا حالانکہ اس میں تمام باقی زندہ یرغمالوں کی ایک ہی وقت مین رہائی کے عوامی مطالبہ کو نہیں مانا گیا۔ اس تجویز کے تحت جنگ بندی کے پہلے ہفتے 10 اسرائیلی یرغمالی اور 18لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کی جانا تھیں لیکن اب حماس کے "سینئیر عہدیدار" نے حماس کو پیش کئے جانے سے پہلے ہی اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

 مجوزہ امریکی منصوبے کے تحت  دس اسرائیلی یرغمالوں کی واپسی کے بدلے جواب میں اسرائیل عمرقید والےحماس کے  125  افراد کو  رہا کرے گا جبکہ اسرائیل 7  اکتوبر کے بعد گرفتار  1100 سے زائد حماسیوں کو بھی رہا کرے گا۔

مجوزہ امریکی منصوبے میں اسرائیل کے دس یرغمالیوں کی رہائی کے بعد  باقی تقریباً 13 زندہ  اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو مستقل جنگ بندی کے نفاذ کے بعد  پر چھوڑا گیا تھا۔

 وائٹ ہاؤس نےکل ہی یہ بتایا تھا اسرائیل نے مجوزہ امریکی منصوبے پر  رضامندی ظاہر کی ہے۔

حماس نے  7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی سرحدی آبادیوں پر حملے کر کے سینکڑوں افراد کو قتل کر دیا تھا اور ڈھائی سو سے زیادہ افراد کو اغوا کر لیا تھا۔ اس حملے میں حماس اور دوسری تنظیموں کے پانچ ہزار کے لگ بھگ کارکن شریک تھے۔ اس حملے کے  کچھ گھنٹے بعد اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع کر دی تھی۔ اب تک حماس کے اعلانات کے مطابق غزہ میں  60 ہزار  افراد مارے جا چکے ہیں جن میں ہزاروں بچے اور ہزاروں عورتیں ہیں۔

42 روزہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد مارچ میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کے کارکنوں پر دوبارہ  ائیر سٹرائیکس شروع کر دیں، تب سے  اسرائیل جنگ روکنے  کے لئے حماس کے غزہ پر کنٹرول کے خاتمہ کا مطالبہ کر رہا تھا۔

کل امریکہ کی جس تجویز پر اسرائیل نے اتفاق کیا اس میں حماس کا غزہ پر کنٹرول ختم کرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا، اس میں دو ماہ کی ابتدائی جنگ بندی کی بات کی گئی تھی جس کے آغاز میں پہلے ہفتے  10 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی تجویز تھی، اس کے ساتھ کم و بیش  18 ان یرغمالوں کی لاشین واپس کرنا تھین جو حماس کی  600 دن کی قید کے دوران مارے جا چکے ہیں۔

غزہ میں صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کی کئی ہفتوں کی ناکہ بندی کے سبب خوراک کی عام شہریوں کے لئے قلت ہو گئی ہے۔ پرسوں بدھ کے روز  خوراک کی  قوام متحدہ کی بجائے غیر سرکاری ڈسٹری بیوٹر کے ذریعہ تقسیم کا نیا نظام آغاز ہوا تو  غزہ کے چار شہری خوراک حاصل کرنے کی دھکم پیل کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ اور دھکم پیل سے کچلے جانے کے سبب مارے گئے۔