ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے شہر میں درخت کاٹنے پر سخت اظہار ناراضگی کرتے ہوئے شیرانوالہ اور ٹیکسالی گیٹ کے قریب بننے والے ہاکنگ پلازوں کے پراجیکٹ روک دیئے ،عدالت کا آئندہ سماعت پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور ڈی جی ،پی ایچ اے کو طلب کرلیا۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی, ممبر ماحولیاتی کمیشن نے شہر میں درختوں کی کٹائی کے متعلق رپورٹ پیش کی ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اگر ڈی جی پی ایچ اے شہر کے درخت نہیں بچا سکتے تو انہیں کسی اور جگہ تبادلہ کروا لینا چاہیے۔ عدالت نے وائس چانسلر اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس بھی جاری کیا اور ایس پی رینک کے کسی افسر کو یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی کی تفتیش کرنے کا حکم دیا۔
ماحولیاتی کمیشن کے ممبر نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کے علاقے میں 45 درخت کاٹے گئے،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ ملوث افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور ان کے خلاف اینٹی کرپشن میں کیس چلنا چاہیے۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو مزید بتایا کہ شیرانوالہ گیٹ م اور ٹیکسالی گیٹ پارکنگ پلازوں کے پراجیکٹ چل رہے ہیں لیکن وہاں درختوں کو ٹرانسپلانٹ کرانے کا کوئی میکنزم نہیں، عدالت نے ممبر ماحولیاتی کمیشن کی رپورٹ پر ان دونوں پراجیکٹ پر تاحکم ثانی کام روک دیا۔
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل ، ڈی جی پی ایچ اے کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو فروری تک ملتوی کردی۔