ڈیڑھ ماہ کی عمر میں اغوا ہوئی بچی 51 سال بعد اہل خانہ سے جاملی

2 month lost child met her parents after 51 years
کیپشن: File Photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ڈیڑھ  ماہ کی عمر میں اغوا کی جانے والی بچی 51 سال بعد اپنے والدین کو مل گئی۔

 تفصیلات کے مطابق امریکا میں گمشدہ افراد کے کیس میں تقریباً سب سے پرانا کیس بلآخر  نصف صدی بعد حل ہوگیا۔  23 اگست 1971 میں ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ سے  میلیسا ہائی اسمتھ نامی ڈیڈھ ماہ کی بچی کو  اغوا کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق  1971 میں میلیسا کی والدہ نے  بچی کی دیکھ بھال کی خاطر کسی ملازمہ کو تلاس کرنے کے لئےاخبار میں اشتہار دیا تھا۔بعدازاں ایک خاتون نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ان کے گھر ملازمت کا آغاز کیا۔ کچھ روز بعد ملازمہ بچی کو لے کر فرار ہوگئی جس کے بعد  بچی کی تلاش کے لیے انتھک کوششیں کی گئیں جو رائیگاں گئیں۔

 بچی کے والدین نے سوشل میڈیا پر بچی کے اغوا ہونے کے اشتہارات بھی دیے تھے جن سے انہیں بہت مدد ملی، رواں  سال ستمبر میں اہلخانہ کو اشارہ ملا کہ ان کی بیٹی چارلسٹن میں موجود ہے۔ بچی کے والدین نے ڈی این اے ٹیسٹ، پیدائشی نشان اور تاریخ پیدائش کی مدد سے یقینی بنایا اور اس بات کی تصدیق کردی کہ علاقے میں موجود خاتون ان کی بیٹی میلیسا ہے، جو  کہ 51 سال قبل اغوا ہو گئی تھی۔ میلیسا کو اغوا کرنے والی خاتون سے متعلق فی الحال کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔

والدین سے ملنے پر میلیسا نے کہا کہ 'مجھے اپنے والدین سے مل کر جو خوشی ہوئی میں وہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی، یہ دنیا کی خوبصورت احساسات میں سے ایک ہے'۔