ویب ڈیسک:نامور پاکستانی پلے بیک گلوکار منیر حسین کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے۔ وہ 27 ستمبر 1995 کو انتقال کرگئے تھے۔ اپنے کئی دہائیوں پر محیط فلمی کیریئر کے دوران انہوں نے 200 سے زائد یادگار اور مقبول گیت گائے۔
منیر حسین نے فلمی دنیا میں قدم فلم ’’سات لاکھ‘‘ سے رکھا، تاہم فلم ’’نوراں‘‘ ان کی پہلی فلم تھی۔ فلم ’’سات لاکھ‘‘ کے گیت ’’قرار لوٹنے والے تو پیار کو ترسے‘‘ نے انہیں ملک گیر شہرت دلائی، جبکہ ’’دلّاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے‘‘ بھی ان کے مقبول ترین گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔
موسیقار صفدر حسین نے منیر حسین کو فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ فلم ’’حاتم‘‘ کے لیے انہوں نے گیت ’’تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے‘‘ گایا۔ بعد ازاں رشید عطرے، خواجہ خورشید انور اور اے حمید جیسے نامور موسیقاروں نے بھی ان کی آواز کو اپنی دھنوں کے لیے استعمال کیا۔
اپنے عروج کے دور میں منیر حسین، سلیم رضا کے بعد پاکستان کے مقبول اور مصروف ترین فلمی گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ان ابتدائی گلوکاروں میں شامل تھے جنہیں بیک وقت اردو اور پنجابی فلموں میں کامیابی حاصل ہوئی۔
منیر حسین کا تعلق موسیقی کے معروف گھرانے سے تھا۔ ان کے سگے ماموں عظیم موسیقار رشید عطرے تھے، جبکہ خالہ زاد بھائی صفدر حسین بھی معروف موسیقار تھے۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں سب سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دینے والے موسیقار وجاہت عطرے بھی ان کے ماموں زاد بھائی تھے۔
فلم ’’سات لاکھ‘‘ کے گیت کی ریکارڈنگ سے قبل رشید عطرے نے منیر حسین کی خصوصی تیاری کروائی تھی۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں منیر حسین اور سلیم رضا نے پاکستانی فلمی پلے بیک گلوکاری میں نمایاں مقام حاصل کیے رکھا۔
منیر حسین نے اپنے تقریباً 36 سالہ فلمی سفر میں 163 فلموں کے لیے 217 گیت گائے، جن میں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے گانے شامل تھے۔ ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ ان کا پنجابی دوگانا ’’اک چیز گواچی‘‘ بھی بے حد مقبول ہوا، جو فلم ’’نوراں‘‘ کا حصہ تھا۔
نور جہاں کے ساتھ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کے لیے گایا گیا دوگانا ’’ونجھلی والڑیا‘‘ بھی منیر حسین کے سدابہار گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس گیت کی موسیقی خواجہ خورشید انور نے ترتیب دی جبکہ اس کے بول احمد راہی نے لکھے تھے۔