ویب ڈیسک: اسرائیلی فوج نے ایک اور انسانیت سوز اقدام کرتے ہوئے فلسطینیوں کے لیے خوراک لے جانے والی امدادی کشتی پر قبضہ جما لیا جبکہ سماجی کارکن اور عملہ بھی اغوا کر لیا۔
ذرائع کے مطابق امدادی کشتی بین الاقوامی رضاکاروں کی جانب سے غزہ میں جاری اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑ کر فلسطینی عوام کے لیے غذائی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس دوران صیہونی فوج نے کشتی کو روک لیا اور اس پر سوار نہتے رضاکاروں پر اسلحہ تان لیا۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں کم از کم 6 اسرائیلی فوجیوں کو امدادی کارکنوں پر بندوقیں تانے ہوئے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ غذائی امداد لے جانے والی کشتی پر اسرائیلی حملے کا دوسرا واقعہ ہے، جس سے ایک بار پھر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے۔ادھر فلسطین میں جاری قحط اور خوراک کی شدید قلت کے باعث جان بحق افراد کی تعداد 127 ہو گئی ہے جن میں 85 بچے شامل ہیں۔

کشتی کے منتظمین کی جانب سے چلائی جانے والی لائیو ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو زبردستی کشتی پر چڑھتے دیکھا گیا جس کے کچھ دیر بعد براہ راست نشریات بند ہوگئیں۔اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے کشتی پر قبضے سے کچھ دیر قبل کشتی پر سوار ایک خاتون رکن اِما فوریو نے اپنی ایکس پوسٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیلی فوج پہنچ گئی ہے، ہم اپنے فون سمندر میں پھینک رہے ہیں، غزہ میں قتل عام بند کرو۔
غزہ تک امداد لے جانے والا یہ مشن فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے زیرانتظام سرانجام دیا جارہا تھا، اس 12 ممالک کے 21 سماجی کارکن بھی سوار ہیں جن میں الجزیرہ کے دو صحافی شامل ہیں۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا کہنا ہے کہ حنظلہ نامی جہاز کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے تقریباً چالیس ناٹیکل میل کے فاصلے پر زبردستی روکا گیا، اسرائیلی فورسز نے جہاز پر نصب کیمرے بند کر دیے، جس کے بعد حنظلہ سے تمام رابطہ منقطع ہو گیا۔
تنظیم نے بتایا کہ غیر مسلح کشتی زندگی بچانے والی امدادی اشیاء لے جا رہی تھی، اس پر سوار مسافروں کو اغوا کیا گیا، اور اس کا سامان ضبط کر لیا گیا ہے، یہ کارروائی بین الاقوامی پانیوں میں ہوئی، جو فلسطینی علاقائی پانیوں سے باہر ہے، اسرائیل کا یہ حملہ بین الاقوامی سمندری قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یہ جہاز غزہ میں بھوک کا شکار فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد لے جا رہا تھا، جس میں بچوں کا دودھ، ڈائپرز، خوراک اور دوا شامل تھی۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ جانے والے امدادی جہاز کو روکنے پر اسرائیل کی مذمت کی ہے اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری قزاقی کے اس جرم کی مذمت کرے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم کارکنوں کی حفاظت کی ذمہ داری نیتن یاہو کی حکومت پر عائد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فلوٹیلا مشن اس وقت تک جاری رہیں جب تک محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔
حماس نے کہا ہے کہ ہم بین الاقوامی یکجہتی کے کارکنوں کی جرات کو سراہتے ہیں اور ان کا پیغام صیہونی دھمکیوں کے باوجود ہمارے عوام اور دنیا تک پہنچ گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی میڈلین نامی امدادی کشتی غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئی تھی تاہم اسرائیلی فوج نے غزہ سے تقریبا 200 کلو میٹر کی دوری پر اس کشتی کا راستہ روک کر اسے واپس بھیج دیا تھا۔