ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک نئی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطوں کا دائرہ بڑھانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ حالیہ بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے تعلقات کے لیے نئے امکانات زیرِ غور ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے ایک نیا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی کمان سینٹکام اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے نمائندوں کے درمیان دوحہ میں جلد ملاقات متوقع ہے۔ ان مذاکرات میں باہمی اختلافات کم کرنے، معاشی سہولتوں اور ممکنہ تعاون کے نکات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک برطانوی نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کے ساتھ ایسے سفارتی رابطے قائم کیے ہیں جو ماضی میں موجود نہیں تھے، اور ان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ روابط بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ براہِ راست رابطوں کا یہ سلسلہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور مستقبل میں نسبتاً بہتر تعلقات قائم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ وہ اپنے منجمد اثاثوں کے ذریعے امریکی مصنوعات خریدنے پر آمادہ ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت پر کسی قسم کی فیس یا ٹیکس لاگو نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی ملک کو ایسا اختیار حاصل ہے۔
خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک نے آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہوئی تو اسے معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں خلیجی اتحادیوں کے تحفظات کو مدنظر رکھا جائے گا، جبکہ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے کسی فنڈنگ پر خلیجی ممالک سے بات نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ایران کی جانب سے پراکسی گروپوں کی حمایت امن کے قیام میں ایک اہم رکاوٹ ہے اور امریکا ایران کے عملی اقدامات کو دیکھتے ہوئے معاہدے سے متعلق اپنی پالیسی مرتب کرے گا۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس پیش رفت پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ یورپی ممالک کی جانب سے فوجی اڈوں کے حوالے سے عدم تعاون نے امریکا اور یورپ کے اتحاد کو متاثر کیا، جبکہ ان کے بقول ایران سے متعلق خدشات یورپ کے لیے زیادہ اہم نوعیت رکھتے ہیں۔