ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شی جن پنگ کا ٹرمپ سے اہم مطالبہ، امریکا اور ایران مذاکرات کی طرف واپس آئیں

شی جن پنگ کا ٹرمپ سے اہم مطالبہ، امریکا اور ایران مذاکرات کی طرف واپس آئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی، جہاں صدر ٹرمپ اور امریکی خاتون اول نے چینی صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔

چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شینہوا کے مطابق شی جن پنگ نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور ایران ایک جامع معاہدے تک پہنچیں گے، جس میں ایٹمی معاملہ اور دیگر معاملات کا تصفیہ بھی شامل ہو گا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ چین متعلقہ فریقوں کو پُرامن حل کے لیے اپنے عزم پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا رہا ہے۔

ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں اور وہ چین کے ساتھ متوازن تجارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اہم امور پر بھی بات کی جائے گی۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور چین کے بہتر مستقبل کے لیے چینی صدر کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے، جبکہ شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات باہمی احترام اور عوامی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں دی گئی ڈنر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین کا نیا تجارتی انتظام عالمی معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا عظیم ممالک ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام عظیم ہیں۔ چینی اور امریکی عوام جاپانی عسکریت پسند جارحیت کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر لڑے، جبکہ جاپان کے خلاف مزاحمتی جنگ کے دوران چینی فوجیوں اور شہریوں نے سیکڑوں امریکی پائلٹوں کی جان بچائی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو رابطے بڑھانے چاہئیں، بات چیت سے ایک دوسرے کو بہتر سمجھا اور اعتماد پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ چین اور امریکا کے تعاون کے بغیر دنیا کے کئی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔

چینی صدر نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چین کے دروازے کھلے ہیں اور امید ہے کہ چینی کمپنیوں سے امریکا میں منصفانہ برتاؤ کیا جائے گا۔  امریکا اور چین کو امن سے رہنا چاہیے، ٹکراؤ سے دونوں کو نقصان ہوگا اور دونوں ممالک جنگ کے چکر میں پڑنے سے بچ سکتے ہیں۔

اس سے قبل چینی صدر شی جن پنگ کے امریکا پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے صدارتی پروٹوکول کے برخلاف خود ایئرپورٹ جا کر ان کا خیرمقدم کیا۔

چینی صدر کے لیے 100 فٹ طویل سرخ قالین بچھایا گیا، دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں، چینی صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور فوجی طیاروں کا فلائی پاسٹ ہوا۔