ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے عدالتی حکم پر 3 میڈیا اداروں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کی وائٹ ہاؤس تک رسائی بحال کردی ہے، تاہم پابندی کے خلاف قانونی کارروائی ابھی جاری ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے ابتدائی طور پر 14 روز کے لیے تینوں میڈیا اداروں کی وائٹ ہاؤس رسائی بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جس دوران ان کی قانونی درخواست پر کارروائی جاری رہے گی۔
جج ٹموتھی کیلی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانونی نظائر کے مطابق صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے پریس اسناد جاری ہونے کے بعد انہیں منسوخ کرنے سے قبل نوٹس اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے جج ٹموتھی کیلی نے کہا کہ تینوں میڈیا اداروں کا یہ مؤقف درست ثابت ہونے کا امکان ہے کہ ان کے آئینی حقِ سماعت کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
تاہم جج نے اس بنیادی معاملے پر فیصلہ نہیں دیا کہ آیا پابندی امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دیے گئے آزادی اظہار اور آزادی صحافت کے حقوق کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق عارضی حکم امتناع جاری کرنے کے لیے قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی ہی کافی تھی۔
جج کیلی نے تینوں میڈیا اداروں کو 28 ستمبر تک مزید حکم، جسے ابتدائی حکم امتناع کہا جاتا ہے، کی درخواست دینے کی مہلت دی ہے۔ ایسا حکم پابندی کے خلاف عدالتی تحفظ کو مقدمے کے فیصلے تک برقرار رکھ سکتا ہے۔
اگر جج کیلی عارضی حکم کو ابتدائی حکم امتناع میں تبدیل کرتے ہیں تو امریکی انتظامیہ واشنگٹن کی وفاقی اپیل عدالت سے اس حکم کو ختم کرنے کی درخواست کرسکتی ہے۔
ٹرمپ نے جج کے فیصلے سے قبل ہی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ اپیل کا اعلان کردیا تھا۔ انہوں نے 18 ستمبر کو سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو پر وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا تھا اور ان اداروں پر صدر کی کوریج کے دوران ’’افسانے اور جھوٹ‘‘ رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں میڈیا اداروں کی کوریج کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکی میزائل ذخائر، ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں بال روم کی تعمیر اور ریپبلکن وسط مدتی کنونشن میں شرکت سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیا۔
جج ٹموتھی کیلی نے 2018 میں بھی ایسے ہی ایک مقدمے کی سماعت کی تھی، جب ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران سی این این کے صحافی جم اکوسٹا کا وائٹ ہاؤس پریس پاس منسوخ کیا گیا تھا۔