ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کووڈ بحران نے ثابت کیا وبائی امراض سرحدوں اور معیشتوں کی حدود نہیں مانتے, اسحاق ڈار

کووڈ بحران نے ثابت کیا وبائی امراض سرحدوں اور معیشتوں کی حدود نہیں مانتے, اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کووڈ-19 کے بحران نے ثابت کیا کہ وبائی امراض سرحدوں اور معیشتوں کی حدود کا لحاظ نہیں کرتے اور نہ ہی سیاسی اختلافات سے متاثر ہوتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردِعمل سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبائی امراض کے نتیجے میں صحت، معیشت اور معاشرے کو گہرے اور وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا، جبکہ اس بحران نے کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری نے اس غیر معمولی چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر اقدامات کیے۔ پاکستان میں کووڈ-19 کے خلاف کامیاب ردِعمل پورے حکومتی نظام اور معاشرے کو شامل کرنے والے جامع طریقۂ کار کے تحت تشکیل پایا  اس طریقۂ کار میں اسمارٹ لاک ڈاؤن، ٹیسٹنگ، رابطوں کا سراغ لگانا، عوامی آگاہی و ابلاغ، مضبوط سماجی تحفظ کا نظام اور کمزور طبقات کا تحفظ شامل تھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کثیر شعبہ جاتی ’’ون ہیلتھ‘‘ طریقۂ کار بھی اختیار کیا ہے، جس کے تحت انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کو باہم مربوط کیا جاتا ہے تاکہ ابھرنے والی اور دوبارہ سامنے آنے والی بیماریوں کی روک تھام، ابتدائی تشخیص اور مربوط ردِعمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے  یہ مربوط طریقۂ کار پاکستان کی قومی وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاری کی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو وبائی امراض کے خلاف محض ردِعمل دینے کے مرحلے سے آگے بڑھنا ہوگا اور وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور مشترکہ طور پر مؤثر ردِعمل کی جانب پیش رفت کرنا ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی ادارۂ صحت کے وبائی امراض سے متعلق معاہدے کے اختیار کیے جانے کا خیرمقدم کرتا ہے اور وبائی امراض کے خلاف ایک مضبوط، جامع اور عالمی ادارۂ صحت کی قیادت میں کثیرالجہتی ردِعمل کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے مناسب اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں سائنسی، تکنیکی اور طبی مصنوعات کی تیاری کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مزید معاونت بھی درکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی محض خواہش یا وعدے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے عملی شکل دینا ضروری ہے۔ اسی طرح ویکسینز اور دیگر ضروری طبی ذرائعِ انسدادِ وبا سب کے لیے قابلِ رسائی اور قابلِ استطاعت ہونے چاہییں اور انہیں غیر مساوی تقسیم یا ذخیرہ اندوزی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

نائب وزیراعظم نے وبائی امراض سے متعلق اعداد و شمار کی بروقت، شفاف اور درست ترسیل کے لیے مؤثر نظام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ عالمی برادری ابھرتے ہوئے خطرات کی بروقت نشاندہی کرسکے اور ان کے خلاف اجتماعی اور مؤثر ردِعمل دے سکے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں وبائی امراض کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے، جس کی بنیاد اجتماعی اقدامات، مساوات اور یکجہتی پر قائم ہو۔