ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ترسیلات زر بھیجنے والوں کے لیے پاسبان ریوارڈ اسکیم، اکتوبر سے عملدرآمد

ترسیلات زر بھیجنے والوں کے لیے پاسبان ریوارڈ اسکیم، اکتوبر سے عملدرآمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: اسٹیٹ بینک نے ترسیلات زر میں مزید اضافے کے لیے پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم متعارف کرادی، جس کے تحت زیادہ ترسیلات زر بھیجنے والوں کو خصوصی انعامات دیے جائیں گے، اسکیم پر عملدرآمد اکتوبر سے شروع ہوگا جبکہ پہلی قرعہ اندازی جنوری میں ہوگی۔

اسٹیٹ بینک میں پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم کی تعارفی تقریب ہوئی، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، نجی بینکوں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی اسکیم بینکنگ انڈسٹری کا اقدام ہے، جس کا مقصد ملکی ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ کرنا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ 2022 میں ملک کو دو بڑے مسائل کا سامنا تھا، مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن بھی شدید تھا۔ اس وقت آؤٹ فلوز 90 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے جبکہ ان فلوز 72 ارب ڈالر تھے اور 18 ارب ڈالر کی تفریق تھی  2022 میں اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے 8 ارب ڈالر مارکیٹ میں ڈالے، درآمدات کم کرنے کے لیے پابندیاں لگائی گئیں اور آؤٹ فلوز 90 ارب ڈالر سے کم کرکے 70 ارب ڈالر تک لائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں درآمدات میں بتدریج آسانی پیدا کی گئی جبکہ ان فلوز بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ اور دیگر شعبوں پر کام کیا گیا۔ ایکسپورٹ میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے کے بعد ترسیلات زر پر خصوصی توجہ دی گئی اور غیر رسمی ذرائع سے آنے والی رقوم کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے انفراسٹرکچر بہتر بنایا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پر بھی خصوصی توجہ دی گئی جبکہ غیر ملکی شہریوں کو بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں شامل ہونے کی اجازت دی گئی، جس سے پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی مد میں بھی ان فلوز آنا شروع ہوئے۔  گزشتہ سال آؤٹ فلوز 82 ارب ڈالر رہے اور ان فلوز و آؤٹ فلوز تقریباً برابر رہے۔ رواں سال درآمدات 68 سے 70 ارب ڈالر تک رہنے کا امکان ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

گورنراسٹیٹ بینگ جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال 9 ارب ڈالر کی خریداری کی گئی، جبکہ اس وقت ملک میں 27 ارب ڈالر کے فارن ایکسچینج ریزروز موجود ہیں جو تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔ ان ذخائر کو چار ماہ کی درآمدات کے برابر کرنے کا ہدف ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کرنٹ اور ایکسٹرنل اکاؤنٹ میں بہتری سے فارن سرمایہ کاروں نے ملک پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایکسپورٹرز کے مسائل بھی حل کیے گئے ہیں تاکہ وہ نئے منصوبے شروع کرسکیں اُنہوں نے کہا کہ 2025 میں ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تھیں جبکہ رواں سال یہ 44 ارب ڈالر سے بڑھ جائیں گی۔ پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ اسکیم بھی ترسیلات زر بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔

جمیل احمد کے مطابق اسکیم میں بینکوں نے 16 ارب روپے رکھے ہیں جن سے انعامات دیے جائیں گے۔ جو شخص زیادہ ترسیلات زر بھیجے گا، اسے اسکیم میں شامل ہونے کے زیادہ مواقع ملیں گے۔ اسکیم کی شفافیت کے لیے بینکوں کے ساتھ مل کر کام کیا گیا ہے۔

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل منیر کمال کے مطابق بینکوں نے مالی سال 2026 میں ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر ترسیلات زر وصول کیں، جبکہ مالی سال 2026 میں نجی شعبے کے قرضوں میں 35 فیصد اور زرعی قرضوں میں 24.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔