ریلوے حادثات میں اضافہ، کراچی پہلے،لاہور دوسرے نمبر پر رہا

ریلوے حادثات میں اضافہ، کراچی پہلے،لاہور دوسرے نمبر پر رہا

لاہور ریلوے سٹیشن (سعید احمد سعید ) سال 2020 ء میں ریلوے حادثات میں اضافہ، ریلوے اعدادوشمار نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ لاہور، ملتان، سکھر، کراچی سمیت ساتوں ڈویژنوں کی رپورٹ کے مطابق جنوری تا مئی 2020ء پانچ ماہ میں گزشتہ سال کی نسبت حادثات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سال 2020 ء میں ریلوے حادثات میں اضافہ، ریلوے اعدادوشمار نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ لاہور، ملتان، سکھر، کراچی سمیت ساتوں ڈویژنوں کی رپورٹ کے مطابق جنوری تا مئی 2020ء پانچ ماہ میں گزشتہ سال کی نسبت حادثات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے.

ملک بھر میں ٹرینوں کے 65 حادثات ہوئے، جبکہ گزشتہ سال جنوری تا مئی میں ٹرینوں کے 53حادثات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ رواں سال پانچ ماہ میں سب سے زیادہ مال گاڑیوں کے حادثات رونما ہوئے۔ حادثات میں ریلوے کراچی ڈویژن سر فہرست رہا، کراچی ڈویژن میں ٹرینوں کے کل 20 حادثات رونما ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق دوسرے نمبر پر لاہور ڈویژن میں ٹرینوں کے کل 17حادثات ہوئے۔

تیسرا نمبر پر ملتان ڈویژن  رہا جہاں 10 حادثات ہوئے، پشاور ڈویژن میں تین حادثات، راولپنڈی ڈویژن میں پانچ، سکھر ڈویژن میں نو اور کوئٹہ ڈویژن میں ایک حادثہ رونما ہوا، رواں سال ڈی ریلمنٹ کے 35، ریلوے پھاٹکوں پر 12 اور آگ لگنے کے 4 حادثات ریکارڈ کیے گئے۔

 رولنگ سٹاک کی خامیوں کے باعث 14 اور پٹریوں کی خستہ حالی کے باعث 11 حادثات پیش آئے۔

ریلوے عملے کی غلطی کے باعث 8 ٹرین حادثات ریکارڈ کیے گئے، الیکٹرک شارٹ سرکٹ سے تین، سگنل اینڈ انٹر لاک سسٹم میں خرابی کے باعث دو حادثات رونما ہوئے۔ جبکہ سات حادثات کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہو سکیں، ذرائع کے مطابق رواں سال ہونے والے حادثات کی انکوائریاں تاحال مکمل نہیں کی جا سکیں۔ملک بھر میں ٹرینوں کے 65 حادثات ہوئے، جبکہ گزشتہ سال جنوری تا مئی میں ٹرینوں کے 53حادثات ریکارڈ کیے گئے تھے۔