(ویب ڈیسک)ہماری دنیا بے حد انوکھی ہے، یہاں طرح طرح کے لوگ رہتے ہیں اور ان کے الگ الگ رسم و رواج اور عقائد ہیں۔ کچھ اتنے منفرد ہیں کہ ان کے بارے میں جان کر حیرت بھی ہوتی ہے۔
آج ہم آپ کو ایک ایسے انوکھے گاؤں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو اس وجہ سے خاص ہے کہ یہاں مردوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ اس گاؤں میں صرف خواتین کا راج چلتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس گاؤں کا نام اوموجا ہے جو افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ہے، یہ گاؤں سامبورو صوبے میں ہے، یہ آپ کو کینیا کے دیگر دیہات کی طرح ہی لگے گا۔
یہاں مٹی اور گائے کے گوبر سے بنے گھر نظر آئیں گے، درخت نظر آئیں گے، انسان بھی نظر آئیں گے، مگر صرف خواتین—مرد نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گاؤں میں مردوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہے، تقریباً 30 سال پہلے اس گاؤں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
یہاں سامبورو برادری کی خواتین رہتی ہیں، ان خواتین نے اپنی حفاظت کے لیے یہاں پناہ لی۔
یہ تمام خواتین گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور مختلف قسم کی زیادتیوں کا سامنا کر چکی تھیں، اسی لیے انہوں نے صرف خواتین کی ایک دنیا آباد کی۔
خواتین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شوہروں یا خاندان کے دیگر افراد کے ہاتھوں ذلت اور ظلم جھیل چکی ہیں، مگر اس گاؤں میں رہ کر وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں۔
2023 کی ایک رپورٹ میں اس وقت 26 سالہ خاتون کرسٹین ستیان کا ذکر ہے، جس نے کہا کہ اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہے۔
ستیان نے بتایا کہ شادی کے وقت لڑکے والوں نے جو جانور دلہن کے گھر والوں کو جہیز کے طور پر دیے تھے، وہ چوری ہو گئے۔
جب وہ گھر پہنچی تو اس کے والدین نے اسے شوہر کے پاس واپس جانے کو کہا، کیونکہ ان کے پاس جہیز واپس کرنے کے لیے جانور نہیں تھے۔
تب اس کے پاس واحد راستہ یہی تھا کہ وہ اوموجا گاؤں منتقل ہو جائےاور وہ یہاں منتقل ہو گئی۔