ویب ڈیسک: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا سے تعلق رکھنے والے خلا باز انیل مینن نے خلائی اسٹیشن سے الٹراساؤنڈ کرنے کا تجربہ شیئر کردیا۔
خلا باز اکثر خلائی اسٹیشن میں تحقیق کیلئے مختلف تجربات کرتے رہتے ہیں جسے وہ اپنے سوشل اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہیں۔
اسی طرح خلا باز انیل مینن نے حال ہی میں الٹرا ساؤنڈ کرنے کے طریقے کے حوالے سے بتایا ہے۔
انیل مینن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ الٹرا ساؤنڈ کیلئے ایک شخص مشین چلاتا ہے جب کہ دوسرا شخص کنٹرولز کو سنبھالتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایک 'ریموٹ گائیڈر' اور ڈاکٹروں کی ٹیم اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہمیں درست تصاویر حاصل ہوں اور ساتھ ہی وہ ان تصاویر کا فوری تجزیہ بھی کرتے ہیں تاکہ اگر مزید جانچ کی ضرورت ہو تو اس پر عمل کیا جا سکے۔'
This is how we do science on the @Space_Station. In this demonstration, we have one person operating the ultrasound and the other person operating the controls.
— Anil Menon (@astro_anil) September 9, 2026
A remote guider and a team of doctors make sure that we’re getting the right images and also analyzing the images… pic.twitter.com/iKZZ8b4DTF
انہوں نے مزید کہا کہ 'سائنسدانوں اور معالجین کو تشویش ہے کہ مائیکروگریوٹی خون کے معمول کے بہاؤ کو تبدیل کر دیتی ہے اور خلابازوں کو خون کے جمنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔'
میڈیا رپورٹس کے مطابق انیل مینن کی پوسٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح خلاباز خلا میں اپنی صحت کی نگرانی کے لیے ٹیم ورک، جدید ٹیکنالوجی اور ڈاکٹروں کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔
یہ مظاہرہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طبی تحقیق کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔