ایل ڈی اے سٹی منصوبہ نااہلیوں کا شکار

ایل ڈی اے سٹی منصوبہ نااہلیوں کا شکار

در نایاب: ایل ڈی اے سٹی منصوبہ انجنئیرنگ ونگ اور نیسپاک کی نااہلیوں کا شکار ہونے لگا، منصوبے میں فنی خامیاں سامنےآنے لگیں، فی کنال ڈویلپمنٹ چارجز کےتخمینہ جات بھی تاحال فائنل نہ ہوسکے۔ انجنئیرنگ ونگ اورنیسپاک کےافسران ہی منصوبے کی ڈویلپمنٹ میں رکاوٹ بن گئے۔   

56ایل ڈی اے سٹی منصوبہ کی لاگت اور فی کنال ڈویلپمنٹ چارجز کا تعین نہ ہونے کی ذمہ داری انجنئیرنگ ونگ نےنیسپاک پرڈال دی،  ایل ڈی اے کی گورننگ باڈی سے پچیس لاکھ فی کنال روپے ڈویلپمنٹ چارجزطے کئے گئے۔ ذرائع کےمطابق ایل ڈی اے انجنئیرنگ ونگ 25 لاکھ فی کنال سے منحرف ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہےکہ ایل ڈی اے انجنئیرنگ ونگ نئےسرے سے اٹھائیس لاکھ روپے فی کنال تجویز کرنے پر بضد ہے۔

ایل ڈی اے سٹی منصوبے کا13 ہزارکنال کی ڈویلپمنٹ کا تخمینہ 15 ارب سےزائد منظورکرایا گیا، ذرائع کا کہنا ہےکہ انجنئیرنگ ونگ لاگت 15 ارب سے21 ارب کرنے پر بضد ہے، ذرائع کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے اور سپروائزری کمیٹی کو یکمشت لاگت میں پانچ ارب سے زائد اضافے پر تحفظات ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب حکام نے انجنئیرنگ ونگ کے افسران کو متعدد مرتبہ بلا کر لاگت میں اضافے پر استفسار کرچکے ہیں،  ذرائع کا کہنا ہےکہ ایل ڈی اے سٹی منصوبے کے فیصلے پرعملدرآمد ڈیڈلائن ختم ہونے میں ساڑھے3 ماہ رہ گئے ہیں، ایل ڈی اے ذرائع کےمطابق کمیٹی کو ایل ڈی اے سٹی منصوبہ پر ڈویلپمنٹ سست روی کا شکار ہونے پر بھی تحفظات ہیں۔

 ایل ڈی اے کے پی ڈی حماد الحسن، ڈپٹی محمد اسد اورنیسپاک کے پی ایم جمشید چیمہ ناقص تخمینہ لاگت تیارکرنے کے ذمہ دارہیں۔