ویب ڈیسک: چین کے دارالحکومت بیجنگ میں جاری عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے افتتاحی روز روبوٹس نے دوڑ کے مقابلوں میں انسانوں کے عالمی ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا، تاہم اب ان کی اصل آزمائش پیکیجنگ، گودام کے کام اور باریک نوعیت کے کاموں میں کارکردگی سے ہوگی۔
پانچ روزہ عالمی ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کا آغاز ہفتے کو بیجنگ میں ہوا، جس میں انسانی کھیلوں کی طرز پر مقابلوں کے ساتھ فیکٹریوں، ہوٹلوں، دفاتر اور ہنگامی حالات میں روبوٹس کی صلاحیت جانچنے کے لیے مختلف مقابلے رکھے گئے ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا میں نمایاں کیے جانے والے ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 51 ایونٹس شامل ہیں، جن میں 30 کھیلوں کے مقابلے اور 21 مختلف عملی منظرناموں پر مبنی مقابلے ہیں۔ ٹیکنالوجی شراکت دار ہواوے کے مطابق 40 فیصد سے زائد مقابلوں میں روبوٹس کو مکمل خودمختاری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔
افتتاحی روز دو روبوٹس نے 100 میٹر کی دوڑ میں 9.58 سیکنڈ کے یوسین بولٹ کے عالمی ریکارڈ سے کم وقت حاصل کیا۔ گزشتہ سال ہونے والے مقابلوں میں فاتح روبوٹ کا وقت 20 سیکنڈ سے زیادہ تھا تاہم روبوٹس کو دوڑ کے بعد بریک لگانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اختتامی لائن سے چند میٹر آگے رکھے گئے موٹے گدے سے جا ٹکرائے۔
اسی ماڈل کے ایک اور ہیومنائیڈ روبوٹ نے 400 میٹر کی دوڑ 39.7 سیکنڈ میں مکمل کی، جو جنوبی افریقہ کے وےڈ وان نیکرک کے 43.03 سیکنڈ کے عالمی ریکارڈ سے بھی کم وقت ہے مقابلوں میں رسہ کشی اور ویٹ لفٹنگ کے علاوہ تائی چی اور چینی روایتی کھیل پچ پاٹ بھی شامل ہیں۔
روبوٹس برقی گاڑیوں کی چارجنگ، ریستورانوں میں کام، ہنگامی حالات سے نمٹنے، صنعتی اسمبلی اور سامان کی منتقلی جیسے کاموں میں بھی حصہ لیں گے ان مقابلوں میں کیبل جوڑنے کا ایک عملی امتحان بھی شامل ہے، جس کے ذریعے روبوٹس کی اشیا کی شناخت، ہاتھوں کی درست پوزیشن، مکینیکل ترتیب اور قوت کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت جانچی جائے گی۔
روبوٹکس ماہرین کے مطابق اصل چیلنج ایسے کاموں میں ہوگا جہاں معمولی تبدیلی بھی درپیش ہو، جیسے کیبل کا غلط زاویے پر ہونا، کسی چیز کا پہنچ سے ذرا دور ہونا، پیکیج کا اپنی جگہ سے ہل جانا یا روبوٹ کا کوئی قدم غلط پڑ جانا روبوٹکس کمپنی کے سربراہ یو چاؤ کے مطابق ان مقابلوں سے ہارڈویئر میں بہتری اور صنعت کو اجاگر کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم طویل مدتی اہمیت کا انحصار حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔
مقابلوں میں خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹس کے ٹینس میچ کا بھی انعقاد کیا جائے گا، جس میں روبوٹس سنگلز اور ڈبلز مقابلوں میں گیند کو ٹریک کرنے، سروس کرنے اور شاٹس واپس کرنے کی کوشش کریں گے۔
روبوٹکس کمپنی کی چیف مارکیٹنگ افسر ہوا رونگ کے مطابق اصل مقابلہ اس وقت ہوگا جب یہ روبوٹس فروخت ہونے کے بعد حقیقی صارفین کے مسائل حل کرنے کے قابل ہوں گے۔