ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈاکٹر یاسمین راشد  کو رہا کرنے کا حکم جاری ہو گیا

Yasmin Rashid, Anti Terrorist Court, City42,
کیپشن: یاسمین راشد اپنی گاڑی کا سن روف کھول کر خود نو مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ موجود رہیں۔ ان کی نو مئی کو بننے والی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اسی وقت پوسٹ کیا گیا اور انہیں دنیا بھر میں پھیلایا گیا تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  ڈاکٹر یاسمین راشد  کو رہا کرنے کا حکم جاری ہو گیا۔

لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے آج ڈاکٹر یاسمین راشد کی رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔

نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں پر حملوں، تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے، عوام کو تشدد پر اکسانے کے مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت کی درخواستوں پر اب تک کی اہم ترین پیش رفت آج سامنے آئی ہے۔

لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نو مئی سانحہ کے ایک مقدمہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور کرن لی اور ان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ۔

آج عدالت نے جس اہم مقدمہ میں ضمانت منظور کی ہے  وہ مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے  سنگین جرم سے متعلق ہے۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے فیصلہ سنایا ۔

نو مئی کو  مغلپورہ کے علاقے میں سرکاری املاک پر حملے ہوئے تھے اور اس دوران پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ ان سنگین جرائم کا  تھانہ مغلپورہ میں مقدمہ درج ہوا جس کا ڈائری نمبر 1570/23 ہے۔ اس مقدمہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد کو تشدد پر اکسانے اور احکامات دینے والے کردار کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے۔

آج انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا ۔

انسداد دہشتگردی عدالت کے جج  منظر علی گل نے فیصلہ میں لکھا، عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر ضمانت منظور کی ہے۔

جج منظر علی گل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کی  اور اس مقدمہ میں عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت بھی اسی بنیاد پر منظور کی۔

دوسرے تین مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت پرسوں تک ملتوی

انسداد دہشتگردی عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی دیگر تین مقدمات مین ضمانتوں پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی 

ڈاکٹر یاسمین راشد اس وقت جیل س میں نو مئی سانحہ کے کئی مقدمات میں ہو چکی طویل قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ ان پر کئی سنگین جرائم کے مقدمات ابھی تفتیش اور ٹرائل کے مرحلوں میں ہیں۔  ان کے وکلا نے ان کی بعض مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی ہیں ۔

ڈاکٹر یاسمین راشد نے عسکری ٹاو ر حملہ کیس میں  اور  جناح ہاؤس کے قریب چوک میں  پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات میں بھی ضمانت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

یاسیمن راشد کو نو مئی کو ریاستی اداروں پر حملوں، املاک کو نقصان پہنچانے اور تشدد پر اکسانے کے چار مقدمات میں سزا ہو چکی ہے