(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان سول ایوارڈز سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔
پبلک سروس میں صرف بلا معاوضہ خدمات کو شامل کرنے کی درخواست مستردکردی گئی،جسٹس احمد ندیم ارشد نے اشبا کامران کی درخواست خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،گیارہ صفحات کا فیصلہ عدالتی نظیر قراردیاگیاہے۔
سول ایوارڈز کے پورے نظام کا عمومی آڈٹ کرانے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہاکہ آئین میں پبلک سروس کی اصطلاح کے ساتھ بلا معاوضہ یا رضاکارانہ کی شرط نہیں، عدالت آئینی شق میں اپنی طرف سے اضافی الفاظ شامل نہیں کرسکتی، صرف سرکاری عہدہ یا ملازمت سول ایوارڈ کا خودکار حق نہیں دیتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت ایگزیکٹو پالیسی کی جگہ اپنی پالیسی مسلط نہیں کرسکتی،سول ایوارڈز دینے کا اختیار صدر پاکستان اور متعلقہ حکام کے قانونی دائرہ اختیار میں ہے،کسی مخصوص ایوارڈ میں غیر قانونی اقدام ثابت ہو تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے، تمام سابقہ سول ایوارڈز کو ماضی سے کالعدم قرار دینے کی درخواست قانونی بنیاد سے محروم ہے،آئینی ترمیم سے اکتوبر دو ہزار چوبیس سے پہلے دیے گئے تمام ایوارڈز خود بخود کالعدم نہیں ہوتے،عدالت ایگزیکٹو پالیسی کی جگہ اپنی پالیسی مسلط نہیں کرسکتی۔
تحریری فیصلے میں مزیدکہاگیاکہ کسی مخصوص غیر قانونی ایوارڈ کے بجائے پورے نظام کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
درخواست گزار خاتون نے بیورو کریٹس،اور وزراء کو سول ایوارڈز کی منظوری کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔