سٹی 42: سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم کا انتقال ہوگیا ۔
مرحوم کے نماز جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان، نائب امیر لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے اظہار افسوس کیا ۔ امیرالعظیم کافی عرصہ سے علیل تھے اور منصورہ ہسپتال میں ایڈمٹ رہے اس کے بعد ان کو کینسر کیئر ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا ۔ جہاں ان کا انتقال ہوا
امیر العظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اسلامیہ اسکول سنت نگر سے میٹرک اور اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا، جبکہ اسلامیہ کالج سول لائنز سے فزکس ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی، اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ امیرالعظیم اسکول کے زمانہ سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی طلباء یونین کے منتخب صدر رہے، بعدازاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر فرائض سر انجام دیے۔ زمانہ طالب علمی میں امیر العظیم نے ضیاء الحق دور میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے لانگ مارچ کیا اور اس کے لیے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، اسی قید کے دوران اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر انھیں منتخب کر لیا گیا۔
امیر العظیم ایک طویل عرصہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے۔ اس کے بعد جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر کے طور پر فرائض انجام دیے، بعدازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات نبھائیں۔ 2019ء میں اپنے دوسرے انتخاب کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے امیرالعظیم کو جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔حافظ نعیم نے بھی ان کو مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا۔