ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

24 سال تہہ خانے میں قید بچے پہلی بار سورج کی روشنی میں آگئے

24 سال تہہ خانے میں قید بچے پہلی بار سورج کی روشنی میں آگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: آسٹریا کے ایمسٹیٹن میں 24 سال تک خفیہ تہہ خانے میں قید رہنے والے بچوں نے پہلی بار کھلی فضا اور سورج کی روشنی دیکھی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 سالہ اسٹیفن اور 5 سالہ فیلکس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ کھڑکیوں سے محروم تہہ خانے میں گزارا۔ دونوں بچوں کو اب ایک خصوصی طبی مرکز میں رکھا گیا ہے جہاں ماہرین ان کی جسمانی اور ذہنی بحالی پر کام کررہے ہیں خاندان کی 19 سالہ بیٹی کرسٹن کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اسے مصنوعی تنفس اور ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، تاہم ڈاکٹرز کے مطابق اس کی حالت مستحکم ہے۔

تحقیقات کے مطابق خاندان کے سربراہ یوزف فریٹزل نے تقریباً 24 سال قبل اپنی بیٹی کو خفیہ تہہ خانے میں قید کیا تھا، جہاں اس کے 7 بچے پیدا ہوئے۔ ایک بچہ کم عمری میں انتقال کرگیا جبکہ 3 بچے اپنی ماں کے ساتھ تہہ خانے میں رہے۔

یہ خوفناک حقیقت 2008 میں اس وقت سامنے آئی جب کرسٹن کی شدید بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی طبی تاریخ جاننے کے لیے اس کی والدہ سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں پولیس تحقیقات میں خفیہ تہہ خانے اور برسوں سے جاری جرائم کا انکشاف ہوا۔

2009 میں یوزف فریٹزل کو مختلف جرائم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی اب ماہرین بچوں اور ان کی والدہ کو معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہیں الگ کمرے، ذاتی سامان اور کھلونے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ خاندان کے دیگر افراد سے بھی ان کی ملاقات کرائی جارہی ہے۔