ویب ڈیسک:یورپی یونین نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہریوں کی واپسی کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے نئے سخت قواعد کی منظوری دے دی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ نے 17 جون 2026 کو واپسی سے متعلق نئے ضوابط منظور کیے، جن کے تحت قانونی قیام کا حق نہ رکھنے والے افراد کو واپسی کے فیصلے کے بعد فوری یا مقررہ مدت میں ملک چھوڑنا ہوگا۔
نئے قوانین کا اطلاق صرف پناہ کے مسترد درخواست گزاروں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ویزا یا رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام کرنے والے افراد اور دیگر غیر قانونی طور پر مقیم غیر یورپی شہری بھی اس دائرے میں آسکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت متعلقہ افراد کو اپنی شناخت، پاسپورٹ اور سفری دستاویزات سمیت ضروری معلومات فراہم کرکے حکام سے تعاون کرنا ہوگا۔ تعاون سے انکار، شناخت چھپانے، مقررہ وقت پر رپورٹ نہ کرنے یا واپسی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں جبری واپسی سمیت مختلف اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
قواعد کے مطابق ہر کیس کا الگ جائزہ لینے کے بعد فرار ہونے کے خدشے، حکام سے عدم تعاون یا سلامتی سے متعلق خطرے کی صورت میں کسی فرد کو حراست میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ مخصوص حالات میں حراست کی مدت 24 ماہ تک ہوسکتی ہے، جبکہ بعض معاملات میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے۔
سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے والے افراد پر طویل مدت کے لیے یورپی ممالک میں داخلے کی پابندی بھی عائد کی جاسکتی ہے، جو بعض حالات میں 10 سال سے زائد یا غیر معینہ مدت تک ہوسکتی ہے۔ نئے قواعد کے تحت تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے واپسی مراکز قائم کرنے کی بھی اجازت ہوگی، تاہم کسی فرد کو ایسے مرکز منتقل کرنے کے لیے متعلقہ ملک کی رضامندی اور باقاعدہ معاہدہ ضروری ہوگا۔
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ واپسی کے عمل میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی ضروری ہوگی۔ کسی شخص کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جاسکے گا جہاں اسے تشدد، ظلم یا سنگین نقصان کا حقیقی خطرہ ہو۔ اجتماعی ملک بدری کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
نابالغ بچوں کو واپسی مراکز منتقل نہیں کیا جاسکے گا، جبکہ متاثرہ افراد کو واپسی کے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی اور دستیاب قانونی تحفظ حاصل کرنے کا حق بھی حاصل رہے گا۔
یورپی ممالک کا سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو بھی قانونی طریقہ کار کی پابندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ غیر قانونی طریقے سے یورپ پہنچنے، جعلی پناہ کی درخواست دینے، سیاحتی ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے یا ویزا و رہائشی اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے بعد قیام جاری رکھنے کی صورت میں حراست، جبری واپسی اور مستقبل میں یورپ میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ غیر قانونی قیام آئندہ قانونی ویزا یا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔