سٹی42: ایران اسرائیل تنازعہ پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخٓر نے ریاست کے نکتہ نظر کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے ایران اسرائیل جنگ کو فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
عاصم افتخار نے کہا، آپ نے اس دور کو فیصلہ کن لمحہ قرار دیا اور اجتماعی مستقبل اور اجتماعی ذمہ داری کی بات کی جس سے مکمل طور پر متفق ہوں۔
لڑائی ختم کرنے اور مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل قابل تحسین ہے۔
پچھلے جمعہ کو کونسل کا ہنگامی اجلاس اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی پر بلایا گیا۔ ایک ہفتہ میں اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی وجہ سے صورتحال مزید بگڑ چکی ہے۔ اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا، پاکستان اسرائیل کی بلاجواز اور غیرقانونی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ہم ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اسرائیل کے ان حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں جو پورے خطے اور اس سے باہر کے امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ ہم ایرانی بھائیوں کی جانی نقصان پر دلی تعزیت اور ہمدردی پیش کرتے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا، انسانی جانوں کا ضیاع قابل افسوس ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری سب پر لازم ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا، پرامن مقاصد کے لیے بنی جوہری تنصیبات پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں۔ یہ حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، آئی اے ای اے کے آئین اور جنرل کانفرنس کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنی قانونی رائے واضح طور پر دے۔ اور سلامتی کونسل اور بورڈ آف گورنرز کو ان حملوں کے قانونی، حفاظتی اور سلامتی اثرات سے آگاہ کرے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا، نیوکلئیر توانائی کی عالمی ایجنسی کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
عاصم افتخار احمد کی رائے تھی کہ موجودہ بحران نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ سلامتی کونسل کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اس بے لگام جارحیت کو فوری طور پر روکے اور حملہ آور کو اس کے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرائے۔ اس مقصد کے لیے کونسل کو مندرجہ ذیل اقدامات کرنا چاہے: اسرائیل کے 13 جون سے ایران پر حملوں کی واضح مذمت اور ان تمام اقدامات کی مخالفت جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہیں۔
جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کرے تاکہ بحران مزید نہ بڑھے اور پورے خطے کے امن کو خطرہ لاحق نہ ہو۔
آئی اے ای اے کی محفوظ کردہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرے۔
جیسا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز 1949 میں درج ہے۔ سلامتی کونسل کو اپنی قرارداد 487 پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔
عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ بات چیت اور سفارتکاری کو فروغ دے کر بحران کا پُرامن اور دیرپا حل تلاش کیا جائے اور سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔ افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل کے غیر قانونی حملے اس وقت ہوئے جب ایران کے جوہری مسئلے پر سفارتی کوششیں عروج پر تھیں۔ ان غیر قانونی اقدامات کو مذاکرات سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستانی مستقل مندوب نے زور دیا کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر فوری واپس آنا چاہیے۔ ہم امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی خواہش اور E3 اور ایران کے درمیان مکالمے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
ہم اپنے دیرینہ موقف کی توثیق کرتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام مسائل کو پُرامن طریقے سے، مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ جس میں تمام فریقین کے حقوق، بین الاقوامی ذمہ داریاں اور فرائض شامل ہوں۔اسی کے ساتھ ساتھ، آئی اے ای اے کو اپنی تصدیقی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنی چاہئیں۔ ایجنسی کو غیرجانبدار اور غیرسیاسی انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں تاکہ حقائق پر مبنی اور قابل اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں۔
پاکستان کے نمائندہ نے مزید کہا، یہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داری نبھانااور تنازعات کا پُرامن حل تلاش کرنا چاہیے, فوجی طاقت یا جبر سے دیرپا حل ممکن نہیں ہیں۔ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی مکمل پاسداری کے ساتھ مکالمہ اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں۔ کونسل کو سیکرٹری جنرل کی لڑائی ختم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔
