سٹی42: اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد یورپی یونین اور ایران کے درمیان جوہری کنٹرول کےلیے جنیوا میں بات چیت شروع ہو گئی ہے۔
فرنچ نیوز آؤٹ لیٹ فرانس 24 کے کیتھیوانے گورجیستانی نے رپورٹ کیا کہ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد ایرانی حکومت کے ساتھ ایک کھلا سفارتی چینل برقرار رکھنا ہے۔
اس ملاقات سے قطع نظر یہ اضح ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جلد ہی اپنے حملے بند کرنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
العربیہ نیوز نےجنیوا میں آج ہو رہے اس اہم سفارتی اجتماع کے متعلق رپورٹ میں لکھا؛ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی وزرائے خارجہ نے جمعے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات میں امید ہے کہ وہ نئے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے تہران کی تیاری کا تجزیہ کریں گے۔
یورپی وزرا نے جنیوا میں عباس عراقچی کے سامنے بیٹھنے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پیشگی بات کی جنہوں نے اشارہ دیا کہ امریکہ براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے حالانکہ وہ تہران کی جوہری صلاحیت کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیلی حملوں میں شامل ہونے پر غور کرتا ہے۔
واشنگٹن نے اس کی تصدیق نہیں کی، اگرچہ نشریاتی ادارے سی این این نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں کی جانب سے سفارت کاری کی حمایت کی جو ایران کو معاہدے کے قریب لا سکتی ہے۔
امریکہ تو آمنے سامنے بات کرنے کا ہی خواہاں ہے لیکن ایرانی ایسا نہیں چاہتے، گزشتہ مزاکرات مین بھی وہ امریکیوں سے آمنے سامنے بات نہیں کر رہے تھے، اب بھی ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ ایرانی امریکیوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے جب کہ ہم کر سکتے ہیں۔ "ہم وہ اس کے بیلسٹک میزائلوں، روس کی حمایت اور اپنے شہریوں کی حراست پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے، ان سے کہیں گے کہ بدترین صورتحال سے پہلے جوہری معاملے پر بات کرنے کے لیے میز پر واپس آئیں۔"
برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزراء، جنہیں E3 کے نام سے جانا جاتا ہے، علاوہ ازیں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ دوپہر کے وسط میں شروع ہونے والی بات چیت سے قبل جنیوا میں الگ الگ ملاقات کی۔
تہران، جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ ترقی کو روکنے کے لیے اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیوں پر رضامندی کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تحت، بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ اسرائیل کے حملے ختم ہونے تک ٹرمپ حکومت سے بات نہیں کرے گا۔ ایران اسرائیل کے حملے شروع ہونے سے پہلے بھی امریکہ کے ساتھ براہ راست بات نہین کر رہا تھا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دراصل عمان کے وزیر خارجہ کی پیغام رسانی سے ہو رہے تھے۔
دو یورپی سفارت کاروں نے کہا کہ E3 کو یقین نہیں ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کو قبول کر لے گا اور ایران اور امریکہ کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنا مشکل ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ جمعہ کی بات چیت کو E3 کے ساتھ فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے ایران کی امن کے لئے خواہش کو جانچنے کے لیے استعمال کریں گے۔
سفارت کاروں نے کہا کہ یہ تجویز مذاکرات کے متوازی راستے پر مرکوز ہوگی، ابتدائی طور پر امریکہ کے بغیر، ایک نئے معاہدے پر جس میں سخت معائنے شامل ہوں گے، ممکنہ طور پر اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی، جبکہ ایران کو کچھ افزودگی کی صلاحیت کی اجازت دی جائے گی۔
تنازعہ میں اضافے کے پیش نظر، دونوں فریق گہرائی سے مذاکرات میں داخل ہونے سے پہلے ایران سے مراعات حاصل کرنے اور جنگ بندی کے لیے فوری سیاسی فریم ورک کا مقصد بنائیں گے۔ ایک تیسرے یورپی اہلکار نے کہا کہ وہ پر امید نہیں ہیں کیونکہ E3 کے مطالبات کافی وسیع ہیں اور ایران کے پاس اب بھی کچھ طاقت ہے۔
اسرائیل کا تناظر
اسرائیل کے حوالے سے یہ واضح ہے کہ وہ جنگ کرنے یا روکنے میں نہیں بلکہ ایران کی اس صلاحیت کو نابود کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے اور جس کے متعلق اس کا گمان تھا کہ وہ امریکہ کے مذاکرات سے کنٹرول نہیں ہو پائے گی۔
اسرائیل کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ تین یورپی ملک اور حتیٰ کہ امریکہ خود بھی مذاکرات کے لےبیٹھ کر ایران کو نیوکلئیر پروگرام کو معائنہ کیلئے کھولنے، افزودگی کی سطح کم سے کم پر رکوانے کے لئے کیا بات چیت کرتے ہیں، وہ اپنے تئیں، مسئلہ کا حل کرنے کے لئے ائیر سٹرائکس پر انحصار جاری رکھے گا۔
ایران انگیجمنٹ بڑھانے اور مہلت حاصل کرنے کیلئے ان مذاکرات پر انحصار کر رہا ہے۔ وہ اپنے گزشتہ دعوے کہ اس کا پروگرام پر امن ہے، کو لے کر نئے سرے سے بات کرے گا لیکن اب اس کے لئے آپشن محدود ہیں۔ جنگ بند کرنے سے زیادہ ایران کی دلچسپی بھی امریکہ کو اس جنگ سے الگ رکھنے میں ہو گی جس کا دارومدار امریکہ کی انگیجمنٹ برقرار رکھنے پر ہو گا۔
