ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایم ڈی کیٹ 2026 کل ہوگا، ملک بھر سے ایک لاکھ 38 ہزار امیدوار رجسٹرڈ

ایم ڈی کیٹ 2026 کل ہوگا، ملک بھر سے ایک لاکھ 38 ہزار امیدوار رجسٹرڈ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ 2026 کا امتحان کل 20 ستمبر کو صبح 10 بجے ملک بھر میں ہوگا، جس کے لیے پاکستان میں 34 امتحانی مراکز کے علاوہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی مرکز قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے مطابق رواں سال ایم ڈی کیٹ کے لیے ملک بھر سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدوار رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ریاض میں 237 امیدوار امتحان دیں گے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق پنجاب سے 49 ہزار 199، خیبرپختونخوا سے 38 ہزار 841، سندھ سے 34 ہزار 233، بلوچستان سے 9 ہزار 923، آزاد کشمیر سے 2 ہزار 761، گلگت بلتستان سے ایک ہزار 721 اور اسلام آباد سے ایک ہزار 245 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔

ایم ڈی کیٹ کا پرچہ 180 کثیرالانتخابی سوالات پر مشتمل ہوگا اور امیدواروں کو اسے حل کرنے کے لیے 3 گھنٹے کا وقت دیا جائے گا۔ امتحان مجموعی طور پر 180 نمبروں کا ہوگا، جس میں بائیولوجی، کیمسٹری، فزکس، انگریزی اور آئی کیو سے متعلق سوالات شامل ہوں گے۔

میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ میں کم از کم 55 فیصد جبکہ ڈینٹل کالج میں داخلے کے لیے 50 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہوں گے۔ پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق امتحان میں نیگیٹو مارکنگ نہیں ہوگی اور غلط جواب پر نمبر منہا نہیں کیے جائیں گے۔

امتحان کے بعد آنسر کی اپ لوڈ کی جائے گی تاکہ امیدوار اپنے جوابات کا جائزہ لے سکیں۔ شفافیت یقینی بنانے کے لیے امیدواروں کو کاربن کاپی بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے حل کیے گئے جوابات کا ریکارڈ اپنے پاس رکھ سکیں۔

کونسل کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 کے لیے تقریباً 8 ہزار سوالات پر مشتمل سوالاتی بینک تیار کیا گیا ہے، جس کی تیاری میں تقریباً 80 مختلف مضامین کے ماہرین نے حصہ لیا پی ایم اینڈ ڈی سی نے پرچہ لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک میں امتحان منسوخ ہونے کے خدشے سے نمٹنے کے لیے ہر صوبے کے لیے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے ہیں، جبکہ ہر صوبے کے لیے کم از کم 2 الگ پرچے تیار کیے گئے ہیں۔

کونسل کے مطابق اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک صوبے یا امتحانی مرکز میں پرچہ لیک ہونے یا امتحانی عمل متاثر ہونے کی صورت میں پورے ملک کا امتحان منسوخ نہ کرنا پڑے۔

ایم ڈی کیٹ کے عملی انعقاد کی ذمہ داری متعلقہ صوبائی حکام اور نامزد یونیورسٹیوں کو دی گئی ہے، جبکہ پی ایم اینڈ ڈی سی کا قانونی کردار امتحانی فریم ورک، طریقہ کار اور معیار وضع کرنا ہے۔

پنجاب میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور، سندھ میں سکھر آئی بی اے، خیبرپختونخوا میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور بلوچستان میں بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کوئٹہ کے سپرد کی گئی ہے۔

اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے امیدواروں کے امتحان کی ذمہ داری شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کو دی گئی ہے، جبکہ ریاض میں قائم امتحانی مرکز میں بھی امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری اسی یونیورسٹی کے سپرد ہے۔

بلوچستان کے امیدواروں کے لیے اسلام آباد میں اضافی امتحانی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں بلوچستان ڈومیسائل رکھنے والے امیدوار امتحان دے سکیں گے آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے علیحدہ پورٹل قائم کیا گیا ہے جبکہ انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث امیدواروں کو ایم ڈی کیٹ کی ہارڈ کاپی فراہم کی جائے گی۔ آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے اسلام آباد میں بھی خصوصی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صبح 7 بجے تک اپنے متعلقہ امتحانی مراکز پہنچ جائیں  امتحان صبح 10 بجے شروع ہوگا، تاہم شناخت، تصدیق اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کرنے کے لیے وقت سے پہلے مرکز پہنچنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

امتحانی ضوابط کے مطابق تمام امیدواروں کو امتحان کے اختتام تک اپنی نشستوں پر بیٹھنا ہوگا اور مقررہ وقت سے قبل امتحانی مرکز سے جانے کی اجازت نہیں ہوگی وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق وزارت صحت اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایم ڈی کیٹ کے امتحان کی نگرانی کریں گے۔

پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ 2026 کے امتحانی عمل میں شفافیت، سوالیہ پرچوں کی سکیورٹی اور مختلف علاقوں کے امیدواروں کو امتحان میں شرکت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد انتظامات کیے گئے ہیں۔