سٹی 42: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایندھن سبسڈی سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں وزیرِ اعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم میں اہم تبدیلیاں کردی گئیں۔
اجلاس میں اسکیم پر ملک بھر میں پہلے 48 گھنٹوں کے دوران عمل درآمد اور عوامی ردِعمل کا جائزہ لیا گیا فیصلے کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ایک بار میں کم از کم 5 لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط ختم کردی گئی ہے اب مستحق افراد کو ہر ہفتے 500 روپے کا ٹوکن دیا جائے گا، جسے کسی بھی مقدار میں پٹرول خریدنے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
حکومت کے مطابق اس تبدیلی سے وہ شہری بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم مقدار میں پٹرول خریدتے ہیں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے عمر کی حد بھی 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کردی گئی ہے۔
800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے موجودہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ان گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 دن بعد 10 لیٹر پٹرول کا ایک ٹوکن ملے گا، جبکہ اس حساب سے ماہانہ 3 ٹوکن دیے جائیں گے۔
اجلاس میں پٹرول پمپس کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئیں کہ 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل رقم صارف کو ملے گی اور پٹرول پمپس صارف سے کوئی کٹوتی یا خدمت کی فیس وصول نہیں کرسکیں گے۔
کمیٹی نے رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول پمپس کو ادائیگیوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی گئی کہ ادائیگیوں کی رپورٹ روزانہ دو مرتبہ فراہم کی جائے۔
اسٹیٹ بینک صبح 11 بجے اور شام 7 بجے ادائیگیوں کی رپورٹ فراہم کرے گا مسترد ہونے والی ہر لین دین کی وجہ کی نشاندہی کی جائے گی اور مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے گا۔
اجلاس میں محدود انٹرنیٹ یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی والے علاقوں میں پٹرول پمپس کے لیے متبادل انتظامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ان علاقوں میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر دور دراز دیہی علاقے شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اہل مستحق شہری صرف جغرافیائی محلِ وقوع یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس سہولت سے محروم نہ ہو۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، اقتصادی امور، اطلاعات و نشریات اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و محصولات، معاونِ خصوصی وزیرِ اعظم، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین اوگرا اور سیکریٹری پیٹرولیم نے شرکت کی۔
پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹریز جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد اور متعلقہ وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔