انور عباس: پاکستان میں روانڈا کی ہائی کمشنر ہریرایمانا فاتو نے کہا ہے کہ پاکستان سے 15 تا 18 رکنی وفد 23 تا 25 ستمبر کو کیگالی، روانڈا میں ہونے والے روانڈا- پاکستان انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کرے گا۔
اسلام آباد میں روانڈا ہائی کمیشن میں سابق ایڈیشنل سیکرٹری وزارت خارجہ حامد اصغر خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہریرایمانا فاتو نے کہا کہ پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارت کا حجم 50 فیصد ہے جسے 200 فیصد تک بڑھانے کے خواہشمند ہیں
روانڈا کی ہائی کمشنر نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان 1962 میں سفارتی تعلقات قائم ہوئے جبکہ اپریل 2025 میں اسلام آباد میں روانڈا کا ہائی کمیشن قائم کیا گیا۔ہریرایمانا فاتو کے مطابق دو برس میں باہمی تجارت 10 سے 50 فیصد بڑھائی گئی جبکہ اسے مزید 200 فیصد بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان میں استعمال ہونے والی چائے کا 45 فیصد روانڈا سے آتا ہے، جبکہ لینڈ لاک ملک ہونے کے باعث یہ چائے نیروبی، کینیا کے ذریعے پاکستان برآمد ہوتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ روانڈا پاکستانی چاول کا ایک بڑا خریدار ہے۔ روانڈا- پاکستان انویسٹمنٹ فورم ایک آغاز ہے اور دونوں ممالک ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مضبوط تجارتی تعلقات کے خواہشمند ہیں باہمی تجارتی معاہدے کے کاروبار، تجارت اور سرمایہ کاری پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
اس موقع پر روانڈا پاکستان اقتصادی کونسل کے پیٹرن ان چیف حامد اصغر خان نے کہا کہ مغرب میں اسلام مخالف جذبات اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کی تپش کے باعث افریقہ، بالخصوص روانڈا، سرمایہ کاری کی نئی منزل ہے۔
حامد اصغر خان کے مطابق روانڈا میں موزوں اور سستی زمین، کم قیمت اسکلڈ لیبر، کم نرخ توانائی و بجلی، امن و استحکام اور پرکشش حکومتی ترغیبات و سہولیات بڑی تعداد میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کی وجوہات ہیں۔
تقریب کے موقع پر مہمانوں کو اعزازات اور تحائف بھی دیے گئے۔