سٹی 42: وفاقی حکومت نے پنشن کی ادائیگی اور ڈیجیٹل لائف پروف کے حوالے سے نیا نظام نافذ کردیا، وزارت خزانہ نے وزیراعظم کے حکم پر نظرثانی شدہ ایس او پی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نادرا نے پنشنرز کا ڈیٹا کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ منسلک کردیا ہے، جبکہ لائف ڈیجیٹل سگنل براہ راست نادرا سے متعلقہ محکموں کو منتقل ہوگا پنشنرز پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے اپنی تصدیق مکمل کریں گے۔ بائیو میٹرک تصدیق اور لائف پروف سرٹیفکیٹ میں نجی بینکوں کا کردار ختم کردیا گیا ہے، جبکہ نجی بینکوں کا کردار صرف پنشن تقسیم کرنے تک محدود ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نیا طریقہ کار وفاقی ریٹائرڈ سرکاری ملازمین پر لاگو ہوگا، جس میں پاکستان اور بیرون ملک رہ کر پاکستان میں پنشن لینے والے پنشنرز بھی شامل ہیں وفاقی پنشن کی ادائیگی نئے وفاقی قوانین کے تحت صرف براہ راست ادائیگی کے نظام کے ذریعے کی جائے گی۔
نئے نظام کے تحت الیکٹرانک ادائیگی کا نظام پنشن براہ راست نامزد بینک اکاؤنٹس میں جمع کرے گا۔ پنشن اکاؤنٹ کو صرف پنشن کی وجہ سے غیر فعال نہیں کیا جاسکے گا جبکہ 22 اگست کے اعلامیے کے مطابق پنشن اکاؤنٹس کو غیر فعال نہیں کیا جائے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی پنشن کی ادائیگی کے لیے کاغذی نظام باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے، جبکہ غیرفعال اکاؤنٹ کی پرانی تعریف بھی ختم کرکے نئے قوانین نافذ کیے گئے ہیں چھ ماہ تک ڈیجیٹل لائف سگنل موصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ عارضی طور پر روک دیا جائے گا، اس دوران پنشن کی ادائیگی معطل ہوگی تاہم اکاؤنٹ غیر فعال تصور نہیں ہوگا۔
متبادل تصدیق کا نظام ضلعی دفاتر اور سہولت مراکز پر دستیاب ہوگا۔ مینول تصدیق کے لیے فارم 10، 11 اور 12 استعمال ہوں گے، جبکہ بیرون ملک مقیم پنشنرز کے لیے علیحدہ فارم متعارف کرایا گیا ہے۔
پنشنرز نادرا مراکز، موبائل یونٹس اور سہولت فرنچائزز سے بھی تصدیق کراسکیں گے، جبکہ بینک برانچیں صرف نادرا کے تصدیقی مرکز کے طور پر کام کریں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق 22 اگست سے پہلے بند کیے گئے اکاؤنٹس بائیو میٹرک یا نادرا مرکز سے تصدیق کے بعد بحال کیے جائیں گے، جبکہ ستمبر سے براہ راست ادائیگی کا نظام بھی اکاؤنٹس کی بحالی کا ذریعہ ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے طریقہ کار کا مقصد پنشنرز کو سہولت فراہم کرنا، تصدیقی عمل کو آسان اور مضبوط بنانا اور شفافیت یقینی بنانا ہے، جبکہ نجی بینکوں پر انحصار کم کرکے کارکردگی اور شفافیت میں اضافہ کیا جائے گا۔