ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے یکطرفہ کارروائی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ یکطرفہ کارروائی ختم کرانے کے لیے درخواست صرف 30 دن کے اندر نہیں بلکہ تین سال کے اندر بھی دائر کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یکطرفہ کارروائی کا شکار فریق مقدمے سے خارج نہیں ہوتا اور وہ بعد کے مرحلے پر بھی مقدمے میں شامل ہو سکتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ مقدمات کا فیصلہ تکنیکی بنیادوں کے بجائے میرٹ پر ہونا چاہیے۔
لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کے تنازع سے متعلق مقدمے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج دیپالپور کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا یکطرفہ کارروائی ختم کرنے کا حکم بحال کر دیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ جائیداد کے تنازعات سمیت دیگر مقدمات میں تمام فریقین کو مکمل اور منصفانہ سماعت کا موقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے رٹ درخواست منظور کرتے ہوئے سابقہ عدالتی حکم بحال کر دیا اور ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کو قانون کے مطابق جلد از جلد نمٹایا جائے۔