ملک اشرف : پنجاب پولیس دو سال گزرنے کے باوجود مبینہ طور پر لاپتہ شہری کو بازیاب نہ کرا سکی، لاہور ہائیکورٹ نے شہری کی بازیابی سے متعلق آئی جی پنجاب کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کو 2 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
جسٹس فاروق حیدر نے سائل محمد عثمان کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔تحریری حکم کے مطابق عدالت نے مبینہ لاپتہ شہری کی عدم بازیابی اور پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا۔ عدالت نے پولیس افسران کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان کو 2 اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی سے متعلق پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔کیس کی گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے کے باوجود ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ خان پیش نہیں ہوئے تھے۔ عدالت نے پولیس حکام کی جانب سے شہری کی بازیابی کے لیے کیے گئے اقدامات اور پیش کی گئی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا۔
,درخواست گزار محمد عثمان نے 10 دسمبر 2024 کو اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس کا بھائی مبینہ طور پر لاپتہ ہے اور اسے بازیاب نہیں کرایا جا رہا۔مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی کے کیس میں آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد بھی گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک، ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد اور ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کامران عامر خان بھی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔عدالت نے پولیس حکام کی رپورٹس اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد آئی جی پنجاب کو شہری کی بازیابی یقینی بنانے کا حکم دیا، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی کردی۔