ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی احمد ناصر عزیز ورک کی پروفارما پروموشن کے معاملے میں وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو 21 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیوں نہ متفرق درخواست کو بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کردیا جائے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر سماعت کی۔ ڈپٹی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاقی حکومت کے لاء افسر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے دائر درخواست پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم کو بلاوجہ چیلنج کیوں کیا گیا؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "کیوں نہ آپ کی متفرق درخواست کو بھاری جرمانے کے ساتھ خارج کیا جائے؟"عدالت نے وفاقی حکومت کے لاء افسر سے متعلقہ عدالتی حکم کا پیرا آپریٹو پارٹ پڑھنے کو کہا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ "آپ آرڈر کا پیرا آپریٹو پارٹ پڑھیں۔" وفاقی حکومت کے لاء افسر نے عدالت کو متعلقہ پیرا پڑھ کر سنایا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عدالت میں پیش ہونے والے شخص اور بیان حلفی کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ عدالت میں کوئی اور پیش ہوتا ہے اور بیان حلفی کسی اور کا آجاتا ہے، جبکہ عدالت میں دیے گئے بیان اور بیان حلفی میں تضاد ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ لاہور ہائیکورٹ کے عبوری حکم کو کس طرح چیلنج کیا جا سکتا ہے؟ عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی درخواست پر قانونی نکات اور متعلقہ احکامات کا بھی جائزہ لیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے فیڈرل سروس ٹربیونل کے دو اگست دو ہزار چوبیس کے حکم پر عملدرآمد سے متعلق بھی سوال اٹھایا اور استفسار کیا کہ "آپ نے فیڈرل سروس ٹربیونل کے دو اگست دو ہزار چوبیس کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟"چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دیے کہ کیوں نہ وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو طلب کرکے ان سے پوچھا جائے؟عدالت میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ایس پی احمد ناصر عزیز ورک کی محکمانہ ترقی کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے عبوری حکم پر دوبارہ جائزہ لینے کی استدعا کی گئی تھی۔تاہم عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی متفرق درخواست پر سوالات اٹھاتے ہوئے وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔