ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عدالت کا کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری؛ بڑی خوشخبری آگئی

زندگی کے بنیادی حق کیلئے ضروری ہے کہ شہریوں کے پاس مستقل ملازمت ہو؛ وفاقی آئینی عدالت

 عدالت کا کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری؛ بڑی خوشخبری آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: وفاقی آئینی عدالت نے کنٹریکٹ ملازمین کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری  کردیا ۔ زندگی کے بنیادی حق کیلئے ضروری ہے کہ شہریوں کے پاس مستقل ملازمت ہو۔مستقل آسامیوں کے عوض کنٹریکٹ بھرتیاں قانونی طور پر درست نہیں۔

وفاقی آئینی عدالت  کے  فیصلے کے مطابق مستقل نوعیت کے کام کیلئے کنٹریکٹ پر کی گئی تعیناتیاں غیرآئینی تصور ہونگی،ملازمین کی مستقلی کی بنیاد برابری کا اصول اور بنیادی آئینی حقوق ہیں، آئینی عدالت نے سابقہ فاٹا کے ڈسپنسرز کو مستقل کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت کی صوبائی حکومت کو ڈسپنسرز کو 2002 میں تعیناتی کی تاریخ سے مستقلی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت  کردی ۔جسٹس ارشد حسین نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔ملازمین کا کیس وفاقی کابینہ کے 29اگست 2008 کے دائرے میں آتا ہے۔ 
کابینہ نے 2008 میں گریڈ 15-1 کے تمام ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ریکارڈ سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ملازمین کو کسی مخصوص پروجیکٹ کیلئے بھرتی کیا گیا تھا۔مستقل کرنے کے بجائے ملازمین کو 2010 میں غیرقانونی طور پر برطرف کیا گیا۔یہ محض ملازمت کا کیس نہیں بلکہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔موجودہ کیس کا براہ راست تعلق زندگی گزارنے کے بنیادی آئینی حق سے ہے۔زندگی کے بنیادی حق کیلئے ضروری ہے کہ شہریوں کے پاس مستقل ملازمت ہو۔مستقل آسامیوں کے عوض کنٹریکٹ بھرتیاں قانونی طور پر درست نہیں۔

آئین کی منشا ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔سرکاری اداروں میں ملازمین کو عارضی بھرتی کرنا رواج بن گیا ہے۔اعلی عدلیہ نے ہمیشہ ملازمین کی عارضی تعیناتیوں کی مخالفت کی ہے۔